امریکہ، اسرائیل اورایران کشیدگی؛ بھارت پر 4 دن میں 2 ہزار کروڑ کا معاشی بوجھ

کاوش جمیل رپورٹ
امریکہ، اسرائیل اورایران کے درمیان جاری کشیدگی کے معاشی اثرات بھارت پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ایران سے متعلق اس تنازع کا بھارت پر دو بڑے طریقوں سے اثر پڑ رہا ہے، ایک خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور دوسرا ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی۔ بھارت روزانہ تقریباً 50 لاکھ (5 ملین) بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اگر اوسطاً فی بیرل 10 ڈالر کی قیمت میں اضافہ مان لیا جائے تو بھارت کو ہر روز 50 لاکھ بیرل پر 10 ڈالر اضافی ادا کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے روزانہ 50 ملین ڈالر یعنی تقریباً 5 کروڑ ڈالر کا اضافی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اگر ایک ڈالر کی قیمت 91 روپے مانی جائے تو یہ رقم تقریباً 455 کروڑ روپے روزانہ بنتی ہے۔ اس طرح صرف تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے 4 دن میں تقریباً 1,820 کروڑ روپے کا اضافی خرچ ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا بھی بڑا اثر پڑ رہا ہے۔ بھارت کا سالانہ تیل درآمدی بل تقریباً 160 بلین ڈالر ہے۔ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ صرف 1 روپیہ کمزور ہو جائے تو سالانہ تقریباً 16,000 کروڑ روپے کا اضافی خرچ بڑھ جاتا ہے۔ یومیہ حساب سے یہ تقریباً 44 کروڑ روپے بنتے ہیں، یعنی 4 دن میں تقریباً 175 سے 180 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی گراوٹ کو ملا کر صرف 4 دن میں بھارت پر تقریباً 2,000 کروڑ روپے کا اضافی معاشی بوجھ پڑ چکا ہے۔ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہے، اس لیے اگر یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو مہنگائی، رسد اور حکومتی مالیاتی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کی خبر بھی سامنے آئی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جس کا اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پڑنا یقینی ہے۔



