اکولہ سرکل میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد اسمارٹ ٹی او ڈی میٹر نصب؛ دن کے اوقات میں بجلی استعمال کرنے والوں کو فی یونٹ 85 پیسے تک رعایت؛ اسمارٹ میٹر سے بل بڑھنے کی افواہیں بے بنیاد، مہاوترن کا دوٹوک مؤقف

اکولہ : (ذاکر احمد) :مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی (مہاوترن) کی جانب سے اسمارٹ ٹی او ڈی (Time of Day) میٹروں کی تنصیب کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اکولہ سرکل میں اب تک 3 لاکھ 40 ہزار 300 سے زائد اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے صارفین کو درست بلنگ، بجلی کے استعمال پر نگرانی اور مالی بچت جیسے کئی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
مہاوترن کے چیف انجینئر راجیش نائک نے کہا ہے کہ اسمارٹ میٹر موجودہ دور کی ایک ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو صارفین باقاعدگی سے بجلی بل ادا کرتے ہیں، ان کے لیے اسمارٹ میٹر کسی اضافی بوجھ کا نہیں بلکہ سہولت اور شفافیت کا ذریعہ ہیں۔
اہم نکات
فی یونٹ 85 پیسے رعایت اسمارٹ ٹی او ڈی میٹر رکھنے والے گھریلو صارفین کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک بجلی استعمال کرنے پر فی یونٹ 85 پیسے رعایت دی جا رہی ہے۔ یہ رعایت اپریل 2026 سے نافذ ہے، جبکہ جولائی 2025 میں یہ 80 پیسے فی یونٹ تھی۔
100 فیصد درست بلنگ اسمارٹ میٹر مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں اور ان میں ریڈنگ لینے کے لیے انسانی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ریڈنگ خودکار طریقے سے مرکزی نظام تک پہنچتی ہے، جس کے باعث اوسط بل، غلط ریڈنگ اور خراب میٹر سے متعلق شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
موبائل پر بجلی خرچ کی نگرانی صارفین اپنے موبائل فون کے ذریعے گھنٹہ بہ گھنٹہ بجلی کے استعمال کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں، جس سے بجلی کی بچت اور بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو جاتی ہے۔
اضلاع وار اسمارٹ میٹروں کی صورتحال
پرانے میٹروں کی جگہ نصب کیے گئے اسمارٹ میٹر:
اکولہ ضلع : 85,956
بلڈانہ ضلع : 1,41,612
واشم ضلع : 46,864
مجموعی طور پر 2,74,432 صارفین نے اپنے پرانے میٹر تبدیل کروا کر اسمارٹ ٹی او ڈی میٹر حاصل کیے ہیں۔
نئے بجلی کنکشن کے لیے نصب اسمارٹ میٹر:
اکولہ : 19,313
بلڈانہ : 32,171
واشم : 13,621
یعنی مجموعی طور پر 65,105 نئے اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے ہیں۔
افواہوں پر مہاوترن کا جواب
مہاوترن نے واضح کیا ہے کہ اسمارٹ میٹر کی وجہ سے بجلی بل بڑھنے کا تاثر غلط ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ میٹر صرف بجلی کی اصل اور درست کھپت ریکارڈ کرتا ہے۔ اس میٹر کی تنصیب کے لیے صارفین سے کوئی اضافی فیس بھی وصول نہیں کی جاتی۔
ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل میں تمام صارفین کے لیے اسمارٹ ٹی او ڈی میٹر لازمی ہوں گے اور اگر کسی صارف کو اس حوالے سے کوئی شبہ یا سوال ہو تو مہاوترن کے دفاتر میں اس کی مکمل رہنمائی کی جائے گی۔
توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی
ماہرین کے مطابق اسمارٹ ٹی او ڈی میٹر نہ صرف بجلی کی درست پیمائش کو یقینی بناتے ہیں بلکہ صارفین کو سستی بجلی کے اوقات میں استعمال بڑھانے کی ترغیب بھی دیتے ہیں، جس سے بجلی کے بل میں کمی اور توانائی کے بہتر انتظام میں مدد ملتی ہے۔
مہاوترن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اسمارٹ میٹروں کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں پر یقین نہ کریں اور جدید نظام کو اپنانے میں تعاون کریں۔




