تعلیم و روزگار

مہاراشٹر: نجی امدادی اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی اب آن لائن؛ اقلیتی اسکولوں کے لیے علیحدہ پورٹل، من مانی تقرریوں پر لگے گی روک

zakir ahmed shaikh kawish e jameel reporter balapurاکولہ: (بذریعہ ذاکر احمد شیخ) :ریاست میں تعلیمی نظام کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے حکومت نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اب نجی امدادی (Private Aided) تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ غیر تدریسی عملے کی بھرتی بھی مکمل طورپرآن لائن نظام کے تحت کی جائے گی۔ غیر اقلیتی اسکولوں میں یہ تقرریاں پہلے ہی ’پَوِتر پورٹل‘ (Pavitra Portal) کے ذریعے کی جا رہی ہیں، اور اب یہی نظام مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک علیحدہ آن لائن پورٹل تیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، تاکہ وہاں ہونے والی تقرریوں میں بھی شفافیت برقرار رہے اور حکومت کو اس پورے عمل کی نگرانی ممکن ہو سکے۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر کے دفتر کی جانب سے حکومت کو باضابطہ تجویز ارسال کر دی گئی ہے۔
اب تک ریاست میں اقلیتی اور غیر اقلیتی نجی امدادی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی تقرری زیادہ تر اداروں کے بانیان اور منتظمین کی مرضی کے مطابق ہوتی تھی۔ کئی مقامات پر ایک ہی خاندان کے متعدد افراد کی تقرری کے معاملات بھی سامنے آئے تھے، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ اسی پس منظر میں حکومت نے پہلے غیر اقلیتی اداروں میں تقرری کے عمل کو کنٹرول کیا، مگر اقلیتی اداروں کے لیے الگ قوانین ہونے کے باعث وہاں کوئی پابندی نہیں تھی۔
اب حکومت کی کوشش ہے کہ پَوِتر پورٹل کی طرز پر اقلیتی اسکولوں کے لیے بھی ایک جدید آن لائن پورٹل تیار کیا جائے، تاکہ ریاستی خزانے سے تنخواہ حاصل کرنے والے ان اداروں میں ہونے والی تقرریاں شفاف، منصفانہ اور قواعد کے مطابق انجام پائیں۔ اس سے اعلیٰ حکام کو بھی ہر تقرری کی مکمل معلومات حاصل ہو سکیں گی۔
اب سارا نظام آن لائن:-
غیر اقلیتی اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی تقرری اب پَوِتر پورٹل کے ذریعے ہی ہوگی۔ اسی طرح اقلیتی اداروں میں بھی تقرریوں پر نظر رکھنے کے لیے الگ آن لائن نظام بنانے کی تجویز حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ منظور شدہ آسامیوں سے زیادہ تقرریاں نہ کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی ’شالارتھ آئی ڈی‘ (Shalarth ID) جاری کرنے کے عمل میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر شری رام پنژاڈے، جوائنٹ ڈائریکٹر، سیکنڈری ایجوکیشن، پونے کے مطابق اس نئے آن لائن نظام سے بھرتی کے پورے عمل میں شفافیت آئے گی اور بے ضابطگیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔
شالارتھ آئی ڈی کے اجرا میں سختی:-
اب تک کسی استاد کو تعلیم افسر کی منظوری کے بعد اس کی شالارتھ آئی ڈی جاری کرنے کی تجویز نائب ڈائریکٹر تعلیم کے دفتر کو بھیجی جاتی تھی، مگر اس عمل میں بعض بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں اور بعض مواقع پر شالارتھ آئی ڈی غلط طریقے سے جاری ہونے کے معاملات بھی سامنے آئے۔ اب نئے نظام کے تحت جاری ہونے والی ہر شالارتھ آئی ڈی کا مکمل ریکارڈ آن لائن محفوظ کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ نائب ڈائریکٹر کے آدھار نمبر سے منسلک موبائل پر آنے والا او ٹی پی آن لائن سسٹم میں درج کیے بغیر شالارتھ آئی ڈی جاری نہیں ہو سکے گی۔ اس اقدام سے اعلیٰ حکام کو یہ واضح طور پر معلوم ہو سکے گا کہ کتنی شالارتھ آئی ڈیز جاری کی گئیں اور کس افسر نے انہیں جاری کیا۔
تعلیمی حلقوں میں اس فیصلے کو بھرتی کے نظام میں شفافیت، احتساب اور انصاف کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!