مہاراشٹر

ریاستی حکومت کے ریونیو محکمہ کی تنظیمِ نو سے نئی بحث چھیڑ گئی، کھامگاؤں کے الگ ضلع بننے کے امکانات پھر روشن

بلڈھانہ : (بذریعہ ذاکر احمد شیخ،بالاپور) :ریاستی حکومت کی جانب سے محکمۂ ریونیو کی تنظیمِ نو کے سلسلے میں لیے گئے ایک اہم فیصلے نے ضلع بلڈھانہ سمیت پورے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کھامگاؤں کو ضلع بلڈھانہ سے الگ کرکے نیا ضلع بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مہاراشٹر میں اضلاع کی تعداد موجودہ 36 سے بڑھ کر 37 ہو جائے گی۔
کھامگاؤں کو الگ ضلع بنانے کا مطالبہ گزشتہ کئی برسوں سے مقامی عوام اور مختلف سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے اٹھایا جاتا رہا ہے۔ اب ریاستی حکومت کے حالیہ فیصلے کے بعد اس دیرینہ مطالبے کو نئی تقویت ملتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، جس سے عوام میں امید کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔
۲ اپریل کو ریاستی حکومت نے محکمۂ ریونیو کی تنظیمِ نو کے حوالے سے ایک اہم حکومتی فیصلہ جاری کیا، جس کے تحت ضلع بلڈھانہ کو بڑے اضلاع کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ضلع کے انتظامی نظام کو مزید مضبوط، مؤثر اور عوام دوست بنانا بتایا جا رہا ہے۔
اسی فیصلے کے تحت کھامگاؤں میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ایڈیشنل کلکٹر) کا دفتر قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ اس کے لیے کھامگاؤں میں ایک نیا انتظامی مرکز تعمیر کیا جائے گا، جہاں مختلف سرکاری محکموں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
حکومتی فیصلے کے بعد ضلع بلڈھانہ میں اب دو انتظامی مراکز قائم ہوں گے۔ ایک مرکزی دفتر بلڈھانہ میں برقرار رہے گا، جبکہ دوسرا اہم انتظامی مرکز کھامگاؤں میں کام کرے گا۔ اس سے نہ صرف انتظامی کاموں میں تیزی آئے گی بلکہ مقامی شہریوں کو بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔
خاص طور پر زمین سے متعلق معاملات، محصول کے کاغذات، آفاتِ سماوی سے متعلق انتظامات اور دیگر سرکاری خدمات کے لیے شہریوں کو بار بار بلڈھانہ کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ تمام خدمات اب کھامگاؤں میں ہی دستیاب ہوں گی، جس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوگی۔
مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر مستقبل میں کھامگاؤں کو باضابطہ طور پر نیا ضلع قرار دیا جاتا ہے تو اس سے پورے علاقے کی ترقی کو نئی رفتار مل سکتی ہے اور انتظامی نظام مزید مؤثر انداز میں عوام تک پہنچ سکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!