اورنگ آباد میں بی جے پی کارکنان کا شدید احتجاج؛ ڈاکٹر بھاگوت کراڈ اور اتُل ساوے کی گاڑیاں روک کر نعرے بازی، گالی گلوچ اور ہنگامہ

اورنگ آباد : (کاوش جمیل نیوز) :اورنگ آباد میں بی جے پی اور شیوسینا کااتحاد ٹوٹنے کے بعد بی جے پی میں ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی جے پی کے مرکزی انتخابی دفتر کے سامنے مشتعل کارکنان نے زبردست ہنگامہ کیا۔ اس دوران سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر بھاگوت کراڑ کی گاڑی کو روک لیا گیا، جبکہ کابینہ وزیر اتُل ساوے کی گاڑی پر سیاہی پھینک کر شدید احتجاج درج کرایا گیا۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایک کارکن نے خودسوزی کی کوشش کرتے ہوئے اپنے اوپر مٹی کا تیل ڈال لیا، جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس کی موجودگی میں اتل ساوے اور بھاگوت کراڈ کو وہاں سے نکلنا پڑا۔ مسلسل دوسرے دن بھی ٹکٹوں کے معاملے پر بی جے پی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔
مشتعل امیدواروں اور کارکنان نے الزام لگایا کہ پارٹی میں ناانصافی ہو رہی ہے۔ کارکنان نے اتل ساوے اور بھاگوت کراڑ کے خلاف شدید نعرے بازی کی، ان کی تصاویر پھاڑیں اور گاڑیوں کا گھیراؤ کیا۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ اتل ساوے نے اپنے پی اے اور رشتہ داروں کو ٹکٹ دلایا، جبکہ بھاگوت کراڈ پر ذات پات کی بنیاد پر ٹکٹ دینے کا الزام لگایا گیا۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ برسوں سے پارٹی کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، گھروں گھروں پارٹی کا پیغام پہنچایا، لاکھوں روپے خرچ کیے، مگر آخری وقت میں انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ بعض کارکنان نے مطالبہ کیا کہ فوراً سروے عوام کے سامنے لایا جائے، اور اگر سروے میں ان کے نام شامل نہ ہوں تو وہ پارٹی کے فیصلے کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔
ایک مشتعل کارکن بھدانے پاٹل نے الزام لگایا کہ وہ سروے میں آگے تھے، مگر قیادت نے اپنے قریبی لوگوں کو ٹکٹ دے کر ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری قیادت پر ہوگی۔ وہیں، ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض سوورنا مراٹھے نے شدید سردی میں انتخابی دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع کر دیا ہے۔
خواتین کارکنان نے بھی کھل کر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ بی جے پی عوام کی پارٹی تھی، مگر اب اسے “پرائیویٹ لمیٹڈ” بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ سروے اعلیٰ قیادت خصوصاً دیویندر فڈنویس کو بھیجا جائے اور انصاف کیا جائے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ اورنگ آباد میں بی جے پی کے دفتر کے سامنے پیش آیا، جہاں پولیس کو حالات قابو میں رکھنے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔ پارٹی کارکنان نے صاف لفظوں میں کہا کہ بی جے پی کسی کی جاگیر نہیں، اور اگر ناانصافی جاری رہی تو اس کے سنگین سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔



