تعلیم و روزگار

مہاراشٹر: ٹی ای ٹی گھوٹالوں کے سائے میں بڑا فیصلہ، حکومت کا چونکا دینے والا قدم: پوتِر پورٹل سے ہٹا کر امتحان کونسل کو اختیار؛ شفافیت یا نیا تنازع؟ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز)‌ :ریاست مہاراشٹرمیں اساتذہ کی بھرتی کا عمل اب مہاراشٹر اسٹیٹ کاؤنسل آف ایگزامینیشن کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ اب تک یہ عمل محکمۂ تعلیم کے دفترِ کمشنر کی نگرانی میں ’پوتِر پورٹل‘ کے ذریعے کیا جاتا تھا، تاہم ریاستی حکومت نے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی (سُکانُو سمیتی) قائم کرتے ہوئے یہ تمام ذمہ داریاں امتحان کونسل کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ٹیچر الیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک جیسے معاملات کے تناظر میں اہل امیدواروں کے درمیان شکوک و شبہات اور بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
ریاست میں 2017 سے اساتذہ کی بھرتی پوتِر پورٹل کے ذریعے جاری تھی، جس کی نگرانی کی ذمہ داری دفترِ ایجوکیشن کمشنر کے طرف تھی۔ تاہم حکومت نے منگل، 30 دسمبر کو فیصلہ کیا کہ یہ ذمہ داری اب امتحان کونسل کو سونپی جائے۔ حکومت کے مطابق اساتذہ بھرتی ایک مسلسل اور وقت طلب عمل ہے، جس کے باعث دفترِ تعلیم کمشنر کا زیادہ تر وقت اسی میں صرف ہو رہا تھا اور اہم پالیسی فیصلوں کے نفاذ پر منفی اثر پڑ رہا تھا۔ اسی لیے حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اساتذہ بھرتی سے متعلق امتحانات اور انتخابی عمل ایک ہی ادارے کے تحت ہونا ضروری ہے۔
اس فیصلے کے تحت اساتذہ بھرتی سے جڑے تمام امور امتحان کونسل کو سونپ دیے گئے ہیں، جبکہ دفتری سطح پر کاموں کی تقسیم اور ذمہ داریوں کے تعین کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے چیئرمین ایجوکیشن کمشنر ہوں گے، جبکہ امتحان کونسل کے چیئرمین، ریاستی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت (SCERT) کے ڈائریکٹر، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ڈائریکٹر اس کے اراکین ہوں گے۔ امتحان کونسل کے کمشنر کو رکنِ سیکریٹری نامزد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ریاست میں اساتذہ بھرتی کے لیے امتحان کونسل ہی ٹیچر الیجیبلٹی ٹیسٹ (TET)، اہلیت اور ذہانت کے امتحانات منعقد کرتی ہے۔ 2018 اور 2019-20 میں منعقدہ ٹی ای ٹی امتحانات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے ریاست بھر میں ہلچل مچا دی تھی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائیاں بھی عمل میں آئیں۔ حالیہ امتحانات میں بھی پرچہ لیک ہونے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔
ان حالات میں اساتذہ بھرتی کا مکمل اختیار امتحان کونسل کو دیے جانے پر امیدواروں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس سے انتخابی عمل میں واقعی شفافیت برقرار رہے گی؟ کئی اہل امیدواروں نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ امتحان کونسل ایک خود مختار ادارہ ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس کا کام کاج مشکوک رہا ہے۔ ٹی ای ٹی میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے واقعات کو دیکھتے ہوئے مستقبل کے اساتذہ کی یہ رائے ہے کہ اہلیت اور ذہانت کے امتحانات سمیت بھرتی کا پورا عمل بدستور دفترِ ایجوکیشن کمشنر کے تحت ہی ہونا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!