مہاراشٹر

’آپریشن ٹائیگر‘کامیاب ہوگا یا ناکام؟ سب کی نظریں چھ ارکانِ پارلیمنٹ پر؛دو دن میں بڑا فیصلہ متوقع؛ شندے کے لیے ایم ایل اے توڑنا آسان تھا، مگر ایم پی توڑنا ہوگا بڑا چیلنج؛پڑھیں تفصیلی رپورٹ

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مہاراشٹر کی سیاست اس وقت غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے۔ اس کے مرکز میں اُدھو ٹھاکرے گروپ کے خلاف بغاوت کی قیاس آرائیاں ہیں۔ خاص طور پر چھ لوک سبھا اراکینِ پارلیمنٹ (ایم پی) کی سرگرمیوں کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ یہ وہی ایم پی ہیں جو 2022 میں ایکناتھ شندے کی بغاوت کے دوران اُدھو ٹھاکرے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے تھے۔ اُدھو ٹھاکرے کے حامی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس بار شندے گروپ کے لیے ایم ایل اے کی طرح ایم پی توڑنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔
ان چھ ایم پی میں سے اب تک کسی نے بھی اُدھو ٹھاکرے یا آدتیہ ٹھاکرے کے خلاف کھل کر کوئی تنقید نہیں کی ہے۔ شیو سینا یومِ تاسیس کے موقع پر ان کے شندے گروپ میں شامل ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم بعد میں ان خبروں کی تردید کر دی گئی۔ گزشتہ روز خصوصی عدالت نے دھاراشیو کے رکنِ پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کے والد کے مقدمے میں فیصلہ سنایا۔ اس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اوم راجے نمبالکر نے کہا کہ وہ اگلے دو دنوں میں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کبھی بھی اُدھو ٹھاکرے یا آدتیہ ٹھاکرے کے خلاف نہیں بولیں گے۔
اوم راجے نمبالکر کو 2022 کی بغاوت کے بعد اُدھو ٹھاکرے کا نہایت وفادار حامی سمجھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود ان کا نام باغی اراکین کی فہرست میں آنے سے کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
جون 2022 میں ایکناتھ شندے کی قیادت میں شیو سینا کے کئی ایم ایل اے اور ایم پی اُدھو ٹھاکرے سے الگ ہو گئے تھے۔ اس گروپ نے اُدھو ٹھاکرے پر ہندوتوا نظریے سے غداری کرنے اور بالاصاحب ٹھاکرے کی وراثت کو فراموش کرنے کا الزام لگایا تھا۔ شندے گروپ کا مؤقف تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) شیو سینا کی فطری اتحادی ہے۔ اُن کے مطابق اُدھو ٹھاکرے نے کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ساتھ اتحاد کرکے ہندوتوا سے بے وفائی کی۔
ایکناتھ شندے نے واضح طور پر کہا تھا کہ بالاصاحب ٹھاکرے کی وراثت خون کے رشتے سے نہیں بلکہ نظریے سے جڑی ہوئی ہے۔ شندے گروپ کا دعویٰ تھا کہ مہا وکاس آغاڑی حکومت میں این سی پی کی موجودگی کے باعث شیو سینا کے اراکینِ اسمبلی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جس کے نتیجے میں یہ بغاوت ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے تحت شندے گروپ اُدھو ٹھاکرے کے چھ ایم پی اپنے ساتھ لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے شندے گروپ ماضی کے انہی الزامات کو دوبارہ اٹھا رہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اُدھو ٹھاکرے کانگریس میں انضمام کی تیاری کر رہے ہیں اور پارٹی رہنماؤں و اراکینِ پارلیمنٹ سے ملاقات نہیں کرتے۔ تاہم ان الزامات پر باغی قرار دیے جانے والے ایم پی کی جانب سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
دریں اثنا، شیو سینا کے یومِ تاسیس کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اُدھو ٹھاکرے نے کانگریس میں انضمام کی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا تین دہائیوں تک بی جے پی کی اتحادی رہی، لیکن کبھی اس میں ضم نہیں ہوئی، اس لیے کانگریس میں ضم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ناسک کے رکنِ پارلیمنٹ راج بھاؤ وازے نے کہا کہ اُدھو ٹھاکرے تمام ایم پی کے لیے ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں اور ان سے ملاقات میں کبھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ سینئر رکنِ پارلیمنٹ اروِند ساونت نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پارٹی کے اراکین کو قیادت سے ملاقات میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
یہ چھوں ایم پی 2022 کی بغاوت کے بعد سے مسلسل اُدھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ ان میں بعض ذاتی ناراضگیاں ہو سکتی ہیں، لیکن انہوں نے عوامی سطح پر کبھی بھی اُدھو ٹھاکرے کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔ پارٹی اجلاسوں میں غیر حاضری سے بعض اشارے ضرور ملتے ہیں، تاہم کسی باضابطہ اعلان سے پہلے قیاس آرائیاں کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ان میں سے کسی ایک ایم پی نے بھی الگ راستہ اختیار کیا تو دیگر اراکین کی رکنیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ فی الحال غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور اس کا نتیجہ آنے والے دنوں میں ہی واضح ہو سکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!