مضامین

اسلام کیا کہتا ہے؟ کن صورتوں میں آرگن ٹرانسپلانٹ جائز نہیں

ڈاکٹرریاض الدین دیشمکھ،
ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنرآف پولیس، اورنگ اباد
8888836498
اسلام میں انسانی جان کو غیر معمولی حرمت حاصل ہے۔ قرآن کریم نے ایک جان کو بچانے کو پوری انسانیت کو بچانے کے برابر قرار دیا ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ اصول بھی دیا کہ انسان خود کو ہلاکت میں نہ ڈالے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی واضح فرمایا کہ نہ خود کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ دوسرے کو۔ انہی اصولوں کی روشنی میں فقہاء نے علاج، سرجری اور اعضا کی پیوندکاری (Organ Transplant) کے بارے میں ضوابط بیان کیے ہیں۔
اسلامی شریعت کا بنیادی مقصد جان کی حفاظت ہے، لیکن یہ حفاظت اندھے خطرے کے ذریعے نہیں بلکہ حکمت اور غالب فائدے کی بنیاد پر ہے۔ فقہی قاعدہ ہے کہ یقینی یا غالب نقصان کو صرف وہمی یا کمزور فائدے کے لیے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے ہر وہ علاج جس میں ہلاکت یا شدید نقصان کا اندیشہ زیادہ ہو، شریعت کی نظر میں محلِ نظر بلکہ ناجائز ہو سکتا ہے۔
اعضا کی پیوندکاری اصولاً ایک علاج ہے، لیکن یہ عام علاج کی طرح نہیں، کیونکہ اس میں ایک صحت مند شخص کے جسم میں مداخلت کر کے اس کے عضو کو نکالا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں دو جانیں اور دو جسم شریعت کی نظر میں سامنے ہوتے ہیں: ایک ڈونر (عضو دینے والا) اور دوسرا ریسپینٹ (عضو لینے والا)۔ شریعت دونوں کے حق کی حفاظت چاہتی ہے، کسی ایک کو قربان کر کے دوسرے کو بچانا مقصود نہیں۔
ایسی صورتیں جن میں آرگن ٹرانسپلانٹ جائز نہیں سمجھا جاتا، ان میں پہلی بڑی صورت یہ ہے کہ ڈونر کی جان یا بنیادی صحت کو خطرہ ہو۔ اگر عضو نکالنے سے ڈونر کی زندگی متاثر ہونے کا غالب گمان ہو، یا وہ خود مستقبل میں مرض میں مبتلا ہو سکتا ہو، تو یہ “نہ خود کو نقصان دو” کے اصول کے خلاف ہو جاتا ہے۔ ڈونر کو محض اس لیے خطرے میں ڈال دینا کہ شاید دوسرے کو فائدہ ہو جائے، شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ریسپینٹ کے بچنے کی معقول امید نہ ہو۔ اگر ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچے کہ مریض کی حالت ایسی ہے کہ سرجری کا فائدہ بہت کم اور موت یا شدید پیچیدگیوں کا امکان ہے، تو ایسی سرجری “جان بچانے” کا عمل نہیں بلکہ جان کو مزید خطرے میں ڈالنا شمار ہو سکتی ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ علاج اسی وقت مشروع ہے جب غالب گمان فائدے کا ہو، اور جب نقصان غالب ہو تو علاج ترک کیا جا سکتا ہے۔
تیسری اہم صورت مالی لین دین کی ہے۔ اعضا کو پیسوں کے بدلے دینا یا لینا اکثر فقہاء کے نزدیک ناجائز ہے، کیونکہ انسانی جسم کے اعضا کو تجارت کی چیز بنانا انسانی حرمت کے خلاف ہے۔ اگر غربت یا مجبوری کسی کو اس حد تک لے آئے کہ وہ اپنا عضو بیچنے پر یا عطیہ کرنے پر آمادہ ہو، تو یہ رضامندی بھی شرعی اعتبار سے صحیح رضامندی نہیں مانی جاتی۔
اب کڈنی ٹرانسپلانٹ کی مثال لیجیے۔ بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک کڈنی پر بھی زندہ رہ سکتا ہے، لیکن ہر شخص کی جسمانی کیفیت یکساں نہیں ہوتی۔ اگر ڈونر کی کڈنی نکالنے کے عمل میں بڑی سرجری درکار ہو، پسلی کی ہڈی کاٹنی پڑے، آپریشن کے بعد دوسری کڈنی کے صحیح کام نہ کرنے کا خطرہ ہو، ڈونر کو ڈائلیسس کی نوبت آ سکتی ہو، اور اسے زندگی بھر بعض ضروری دواؤں سے محروم رہنا پڑے یا طبی نگرانی میں رہنا پڑے، تو یہ معمولی نقصان نہیں بلکہ ایک مستقل جسمانی بوجھ اور خطرہ ہے۔ اگر ماہرین کی نظر میں یہ خطرات ہوں تو ایسے ڈونر کو اس عمل میں ڈالنا شرعاً درست نہیں سمجھا جائے گا۔
دوسری طرف ریسپینٹ کی حالت دیکھی جائے۔ اگر مریض انتہائی کمزور ہو، دل صرف بیس فیصد کام کر رہا ہو، جسم میں پانی بھرا ہو، ملٹی آرگن فیلئر کا خطرہ ہو، انفیکشن کا شدید اندیشہ ہو، اور ڈاکٹروں کے مطابق آپریشن ہائی رسک ہو بلکہ آپریشن کے دوران یا فوراً بعد موت کا قوی امکان ہو، مزید یہ کہ ڈونر کی کڈنی مکمل میچ بھی نہ ہو، تو ایسی صورت میں کامیابی کی امید کمزور اور ہلاکت کا اندیشہ غالب ہو جاتا ہے۔ اس حال میں یہ عمل جان بچانے کی مضبوط کوشش نہیں بلکہ دو جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
اسلامی اصول کے مطابق ایک جان بچانے کے لیے دوسری جان کو سنگین خطرے میں ڈالنا جائز نہیں، خصوصاً جب کامیابی کا امکان کم ہو۔ اس لیے جب ڈونر کو نقصان ہو اور مریض کو فائدہ مشکوک ہو، تو اعضا کی پیوندکاری کو جائز قرار نہیں دیا جاتا۔ “چلو کوشش کر لیتے ہیں” شریعت کی دلیل نہیں؛ یہ "علاج” سے زیادہ "جوا” بن جاتا ہے۔ معتبر طبی ماہرین کی رائے سے غالب گمان ہونا ضروری ہے کہ مریض کو حقیقی فائدہ پہنچے گا۔
اسلام علاج کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، مگر اندھا خطرہ مول لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اعضا کی پیوندکاری اسی وقت جائز ہو سکتی ہے جب ڈونر کے لیے خطرہ محدود اور قابلِ برداشت ہو، ریسپینٹ کے بچنے کی معقول اور غالب امید ہو، اور اس عمل میں انسانی جسم کی حرمت اور شرعی حدود کی پاسداری کی جائے۔ اس کے برعکس جب نقصان غالب اور فائدہ مشکوک ہو، تو ایسا ٹرانسپلانٹ شریعت کے مقاصد کے خلاف شمار ہو سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!