مہاراشٹر

اورنگ آباد میں علماء و ائمہ کیلئے اورنگ آباد علماء فائوںڈیشن کی جانب سے منفرد تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد

400 سے زائد علماء کی شرکت، اے آئی، ٹیکنالوجی اور تجارت پر عملی رہنمائی

اورنگ آباد: علماء فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی،مولانا آزاد ریسرچ سینٹر مجنوں ہل کا ہال صبح 10 بجے سے ہی بھر گیا تھا۔ جس میں شہر و اطراف کے 400 سے زائد علماء کرام، حفاظِ عظام اور ائمہ مساجد نے بھرپور شرکت کی۔ یہ ورکشاپ علماء کو جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص اے آئی، کمپیوٹر اور تجارت سے جوڑنے کے مقصد کے تحت منعقد کی گئی تھی۔
ورکشاپ میں معروف عالمِ دین و ماہرِ اے آئی حضرت مولانا جنید جعفر پٹیل صاحب (گجرات) نے تفصیلی پریزینٹیشن پیش کرتے ہوئے اے آئی ٹیکنالوجی کے فائدے، نقصانات، شرعی حدود اور اس کی حقیقی ضرورت پر جامع روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر علماء اس جدید ٹیکنالوجی کو حکمت کے ساتھ استعمال کریں تو دعوتِ دین، تعلیم و تربیت اور خدمتِ امت کے بے شمار دروازے کھل سکتے ہیں۔
اس کے بعد ایڈوکیٹ عابد خان نے کمپیوٹر و جدید ٹیکنالوجی کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دینی و اسلامی نقطۂ نظر سے علماء کرام کس طرح ڈیجیٹل وسائل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جبکہ معروف بزنس ایکسپرٹ جناب شعیب نواب خان نے تجارت کے موضوع پر رہنمائی کرتے ہوئے کم سرمایہ سے آسان اور منفرد تجارتی منصوبے پیش کئے اور بتایا کہ ائمہ و علماء کس طرح باعزت طریقے سے خود کفیل بن سکتے ہیں۔
ورکشاپ کے مقررِ خصوصی حضرت مولانا مفتی فاروق مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے ایمان افروز خطاب میں فرمایا کہ:
“اے آئی، ٹیکنالوجی اور تجارت سے متعلق یہ رہنمائی ایک منفرد اور بے مثال کوشش ہے۔ ایسے پروگرام وقتی نوعیت کے نہیں ہونے چاہئیں بلکہ اسے ایک باقاعدہ تحریک اور مشن کی شکل دے کر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔”
انہوں نے مزید فرمایا کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں، موجودہ حالات میں حکمت و بصیرت کے ساتھ قوم و ملت کی رہبری علماء کی اولین ذمہ داری ہے۔ مولانا نے اورنگ آباد علماء فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم علماء و ائمہ کیلئے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوگا اور سبھی کو اس سے جڑ کر استفادہ کرنا چاہئے۔
پروگرام میں امیرِ شریعت حضرت مولانا مفتی معزالدین قاسمی، مولانا محفوظ الرحمن فاروقی، مولانا نسیم الدین مفتاحی، مولانا عبدالشکور جامعی سمیت شہر کے کئی کبار علماء نے شرکت کی، اظہارِ خیال فرمایا اور فاؤنڈیشن کی اس کوشش کو دعاؤں سے نوازا۔
تقریب کی صدارت مولانا عبدالشکور جامعی نے فرمائی، جبکہ پروگرام کو مولانا محفوظ الرحمن فاروقی کی نگرانی اور مولانا نسیم الدین مفتاحی کی سرپرستی حاصل رہی۔ تلاوتِ کلام پاک کے بعد حافظ انیس الرحمن نے مسحور کن آواز میں نعت شریف پیش کی۔ نظامت کے فرائض قاری مدثر عمر اشاعتی نے انجام دیئے۔
اس موقع پر نمایاں خدمات کے اعتراف میں مولانا فاروق مدنی صاحب اور مولانا جنید جعفر پٹیل صاحب کو “خیرِ اُمت ایوارڈ” جبکہ ایڈوکیٹ عابد خان اور جناب شعیب نواب خان کو “نشانِ محبت ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ مہمان خصوصی علماء کرام کی شال پوشی بھی کی گئی۔
پروگرام کی کامیابی کیلئے اورنگ آباد علماء فاؤنڈیشن کے ذمہ داران خصوصاً قاری ضیاء الرحمن فاروقی، قاری مدثر عمر اشاعتی، مولانا ہاشم ملی، مفتی اظہر، حافظ انیس الرحمن، حافظ خلیل، مولانا انصار، مولانا فیاض اور دیگر رفقاء نے انتھک محنت کی۔ شرکاء کی کثیر تعداد کے باعث مولانا آزاد ریسرچ سینٹر اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کرتا نظر آیا۔
فاؤنڈیشن کے ذمہ داران نے اعلان کیا کہ اس سلسلہ کا اگلا مرحلہ بعد از رمضان منعقد کیا جائے گا تاکہ اس مشن کو باقاعدہ تحریک کی شکل دی جاسکے۔ پروگرام کا اختتام حضرت مولانا فاروق مدنی صاحب کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!