تعلیم و روزگار

ٹی ای ٹی کامیاب اساتذہ کو ہی پروموشن، ڈائریکٹرپرائمری کا حکم نظرِ ثانی عرضداشت میں انصاف ملے گا ؛ ساجد نثار کا مؤقف

پونہ: (کاوش جمیل نیوز) : خصوصی نمائندہ 9 فروری 2026:ریاست مہاراشٹر کے ڈائریکٹر برائے ابتدائی تعلیم، شرد شنکرگیری گوساوی نے اساتذہ کی ترقی (پدوَنّتی) سے متعلق ایک اہم سرکیولر جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹیچر کے عہدے سے ترقی کے لیے ٹیچر الیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) میں کامیابی لازمی ہوگی۔ مذکورہ سرکیولر سپریم کورٹ کے سیول اپیل نمبر 1385/2025 میں یکم ستمبر 2025 کو صادر کردہ فیصلے کے تابع رہتے ہوئے، نیز وزارت سے موصولہ حکومتی مکتوبات کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔سرکیولر کے مطابق، تعلیمی کیڈر میں گریجویٹ اساتذہ، ہیڈ ماسٹر، گروپ ریسورس سینٹر کوآرڈینیٹر (مرکز سربراہ) اور ایکسٹینشن آفیسر (تعلیم) کے عہدوں پر ترقی کے لیے صرف وہی اساتذہ اہل ہوں گے جو ٹی ای ٹی میں کامیاب ہوں اور دیگر مطلوبہ اہلیت کی شرائط بھی پوری کرتے ہوں۔ اس سلسلے میں محکمہ قانون و انصاف سے رائے لے کر حکومت نے مناسب طریقۂ کار اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ متعلقہ تعلیمی افسران، ضلع پریشد اور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو اس حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔دریں اثنا، اس فیصلے کے بعد ریاست بھر کے اساتذہ میں پیدا ہونے والے ابہام کے پیشِ نظر، اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138کے بانی ساجد نثار احمد نے اطمینان بخش مؤقف پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر تعلیم کی جانب سے جاری کردہ سرکیولر سپریم کورٹ کے فیصلے کے تابع ہے اور کسی بھی صورت میں عدالتِ عظمیٰ کے حکم کے خلاف نہیں جا سکتا، لہٰذا اساتذہ کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ساجد احمد نے مزید وضاحت کی کہ یکم ستمبر 2025 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مختلف ریاستوں اور اساتذہ تنظیموں کی جانب سے مجموعی طور پر 33 نظرِ ثانی عرضداشتیں دائر کی گئی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نظرِ ثانی کے عمل میں اساتذہ کو سو فیصد انصاف ملے گا۔ خصوصاً 23 اگست 2010 سے قبل تقرر پانے والے تمام اساتذہ کو انصاف فراہم ہوگا، یہ تنظیم کا مضبوط مؤقف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر عدالتی کارروائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش آتی ہے تو مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں نیا ضابطہ یا قانون منظور کرکے اساتذہ کو انصاف فراہم کرے گی۔آخر میں انہوں نے ریاست کے تمام اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، نظامِ عدل اور نظرِ ثانی عرضداشت پر مکمل اعتماد رکھیں اور افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے سرکاری فیصلے کا انتظار کریں,اگرچہ اس سرکیولر کے ذریعے ترقی کے عمل میں ٹی ای ٹی کی لازمی حیثیت کو دوبارہ واضح کر دیا گیا ہے، تاہم نظرِ ثانی عرضداشتوں کے پس منظر میں اساتذہ برادری میں امید کی فضا بھی قائم ہوئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!