تعلیم و روزگار

سی ٹی ای ٹی کی طرز پرریاست میں ٹی ای ٹی سال میں دومرتبہ لینے کی منصوبہ بندی؛ ریاستی حکومت کو بھیجی گئی تجویز؛ اہلیتی نمبروں میں نرمی پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں

پونے: (کاوش جمیل نیوز) :مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کی جانب سے مرکزی اساتذہ اہلیت امتحان (سی ٹی ای ٹی) سال میں دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے۔ اسی طرز پر اب ریاستی امتحان کونسل کی طرف سے بھی سال میں دو مرتبہ ٹیچر ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) لینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک تجویز ریاستی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ یہ اطلاع امتحان کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر نندکمار بیڑسے نے دی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمت میں موجود اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی پاس کرنا لازمی ہوگا اور ترقی (پروموشن) کے لیے بھی ٹی ای ٹی میں کامیابی ضروری ہوگی۔ اسی پس منظر میں حال ہی میں منعقدہ ٹی ای ٹی امتحان میں امیدواروں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں 4 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے اندراج کروایا۔
اس سال نتائج میں بھی خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ چونکہ قومی سطح پر سی بی ایس ای سال میں دو بارسی ٹی ای ٹی کا انعقاد کرتا ہے، اسی طرح ریاست کے امیدواروں اور اساتذہ کو زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے ٹی ای ٹی بھی سال میں دو بار لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر بیڑسے نے کہا کہ، ’’ملازمت میں موجود اساتذہ اور امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ مواقع دینے کے لیے سال میں دو مرتبہ ٹی ای ٹی منعقد کرنے کی تجویز حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔‘‘
ٹی ای ٹی میں کامیابی کے لیے جنرل زمرے کے امیدواروں کو 60 فیصد یعنی 90 نمبر، جبکہ ریزرو زمرے کے امیدواروں کو 55 فیصد یعنی 83 نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔ تاہم، ملازمت پیشہ اساتذہ کو اسکول کی ذمہ داریوں، گھریلو مسائل اور صحت کے مسائل کے باعث تیاری میں دشواری پیش آتی ہے، اس لیے اساتذہ تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے اہلیتی نمبروں میں نرمی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن نمبروں میں کسی قسم کی رعایت دینے کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
نومبر میں منعقدہ ٹی ای ٹی امتحان کے دوران کولہاپور میں پرچہ لیک ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس پر پولیس نے امتحان کونسل میں تحقیقات کیں۔ تاہم ڈاکٹر بیڑسے نے واضح کیا کہ حقیقت میں پرچہ لیک نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ای ٹی امتحان انتہائی خفیہ اور محفوظ طریقے سے منعقد کیا جاتا ہے اور کم سے کم مداخلت کی وجہ سے پرچہ لیک ہونے کا امکان نہیں رہتا۔
البتہ کولہاپور کے کچھ امیدواروں کا نتیجہ فی الحال محفوظ رکھا گیا ہے اور ان کی سماعت جاری ہے۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ان کا نتیجہ جاری کیا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!