مضامین

​یومِ یونانی: تاریخ، اہمیت اورافادیت

ڈاکٹر سروش الرحمٰن خان
یونانی میڈیکل آفیسر و سابق صدر
یونانی ڈاکٹر ایسوسیشن اکولہ
​دنیا بھر میں ہر سال 11 فروری کو "عالمی یومِ یونانی” انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف ایک قدیم طریقہ علاج کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے اس کی بے پناہ خدمات کا اعتراف بھی ہے۔
طبِ یونانی کی مختصر تاریخ
​طبِ یونانی، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اپنی جڑیں قدیم یونان (Greece) میں رکھتا ہے۔ اس کی بنیاد مشہور حکماء بقراط (Hippocrates) اور جالینوس (Galen) جیسے حکماء نے رکھی۔ ​بقراط کو "بابائے طب” مانا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے طب کو جادو ٹونے سے نکال کر مشاہدے اور منطق کی بنیاد دی۔ ​بعد ازاں، عرب اور ایرانی اطباء (جیسے بوعلی سینا اور الرازی) نے اس میں مزید تحقیق شامل کی اور اسے ایک مکمل سائنس بنا دیا۔ ​ہندوستان میں یہ طریقہ علاج مغلوں کے دور میں عروج پر پہنچا اور یہاں کی مقامی جڑی بوٹیوں کے امتزاج سے "ہندوستانی طبِ یونانی” کے نام سے ایک منفرد شناخت حاصل کی۔
​ یومِ یونانی کیوں منایا جاتا ہے؟
​یومِ یونانی منانے کا بنیادی مقصد مسیح الملک حکیم اجمل خان کی سالگرہ کی مناسبت سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ حکومتِ ہند نے 2017 میں باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کا آغاز کیا تاکہ ​عوام میں یونانی ادویات کے تئیں بیداری پیدا کی جائے۔​حکیم اجمل خان کی طبی اور قومی خدمات کو یاد کیا جائے۔​روایتی طریقہ علاج کو جدید طبی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
​حکیم اجمل خان: ایک عہد ساز شخصیت
​حکیم اجمل خان (1868-1927) صرف ایک ماہر معالج ہی نہیں بلکہ ایک عظیم مجاہدِ آزادی اور ماہرِ تعلیم بھی تھے۔​طبی خدمات: انہوں نے دہلی میں "طبیہ کالج” قائم کیا تاکہ یونانی اور آیورویدک طریقہ علاج کو سائنسی بنیادوں پر سکھایا جا سکے۔
​تحقیقی کام: انہوں نے جڑی بوٹیوں پر تحقیق کے لیے جدید لیبارٹریوں کی بنیاد ڈالی۔
​قومی خدمات: وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار مانے جاتے تھے۔ انہیں "مسیح الملک” کے خطاب سے نوازا گیا۔
طبِ یونانی کی افادیت و اہمیت
​طبِ یونانی "علاج بالضد” اور "نظریہ اخلاط” (Humoral Theory) پر مبنی ہے۔ اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں.
فطری علاج : ادویات خالصتاً جڑی بوٹیوں، معدنیات اور حیوانی اجزاء سے تیار کی جاتی ہیں۔
مجموعی صحت : یہ صرف بیماری کا نہیں بلکہ پورے جسمانی نظام (جگر، معدہ، دل) کی اصلاح کرتا ہے۔
کم مضر اثرات : درست تشخیص اور صحیح مقدار میں لینے پر اس کے مضر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
احتیاطی تدابیر : طبِ یونانی میں "حفظانِ صحت” (Prevention) پر بہت زور دیا جاتا ہے، یعنی بیماری آنے سے پہلے اس کا سدِ باب۔
دورِ جدید اور طبِ یونانی
​آج کا دور شواہد پر مبنی طب (Evidence-based Medicine) کا ہے۔ طب یونانی اب صرف پرانے نسخوں تک محدود نہیں رہی۔
​سائنسی تحقیق: سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن (CCRUM) جیسے ادارے ادویات کی کوالٹی اور افادیت کو جدید لیبارٹری ٹیسٹس سے ثابت کر رہے ہیں۔
​ڈجیٹلائزیشن: یونانی نسخوں کو ڈجیٹل لائبریریوں میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔
​عالمی قبولیت: عالمی ادارہ صحت (WHO) اب روایتی ادویات کو تسلیم کررہا ہے، خاص طور پر دائمی امراض (جیسے شوگر، جوڑوں کا درد، برص اور جگر کے امراض وغیرہ) میں یونانی ادویات کے کلینیکل ٹرائلز بہت کامیاب رہے ہیں۔
​طبِ یونانی محض علاج کا طریقہ نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک سلیقہ ہے۔ یہ ہمیں قدرت کے قریب لاتا ہے اور جسم و روح کے توازن کو برقرار رکھنے کا درس دیتا ہے۔ حکیم اجمل خان کا خواب تھا کہ ہمارا روایتی نظامِ طب دنیا بھر میں اپنا لوہا منوائے۔ آج یومِ یونانی کے موقع پر ہمارا عہد ہونا چاہیے کہ ہم اس عظیم ورثے کی حفاظت کریں، اسے جدید سائنسی سانچے میں ڈھالیں اور انسانیت کی خدمت کے لیے اسے عام کریں۔ ​کیونکہ شفا صرف بیماری کے خاتمے کا نام نہیں، بلکہ مکمل صحت مند طرزِ زندگی کا نام ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!