مسلمانوں کو پھنسانے کے لیے 4 مندروں کی دیواروں پر لکھا گیا ’’I Love Mohammad‘‘، چار افراد گرفتار؛ کہاں پیش آیا یہ معاملہ؟ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

علی گڑھ: (کاوش جمیل نیوز) : اترپردیش کے علی گڑھ میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں جائیداد کے جھگڑے کے سبب چند افراد نے اپنے مسلم پڑوسیوں کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی نیت سے چار مندروں کی دیواروں پر ’’I Love Mohammad‘‘ لکھ دیا۔ پولیس نے اس معاملے میں چار ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
علی گڑھ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نیرج جادون کے مطابق گرفتار شدگان کے نام جیشانت کمار، آکاش کمار، دلیپ کمار اور ابھیشیک سارسوت ہیں۔ اس معاملے میں پانچواں ملزم راہل مفرور ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔ تمام ملزمان کی عمر 30 سے 35 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق، 25 اکتوبر کو علی گڑھ کے چار مندروں کی دیواروں پر ’’I Love Mohammad‘‘ لکھا ہوا پایا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک ہندو تنظیم کے رکن نے مقامی مسلم افراد پر الزام عائد کرتے ہوئے شکایت درج کرائی۔ شکایت ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچے، دیواروں پر لکھی تحریریں مٹائیں اور وہاں موجود ہجوم کو منتشر کیا۔ اس کے بعد مولوی مستقیم، گل محمد، سلیمان، سونو، اللہ بخش، حسن، حمید اور یوسف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
تاہم، تفتیش کے دوران پولیس کو شبہ ہوا کہ دیواروں پر لکھی تحریریں ایک ہی طرز کی ہیں اور ان میں مسلم لکھاوٹ جیسی بات نظر نہیں آتی۔ ستمبر میں ہوئے احتجاج کے دوران استعمال ہونے والے ’’I Love Mohammad‘‘ بینرز سے ان تحریروں کا انداز بالکل مختلف تھا۔ یہی بات پولیس کے شک کو مزید مضبوط کرنے لگی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے اصل ملزمان کا سراغ لگایا اور انہیں گرفتار کرلیا۔ ان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایس پی نیرج جادون نے بتایا کہ ’’تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان کا اپنے مسلم پڑوسیوں سے ذاتی جھگڑا تھا۔ اسی رنجش کے تحت انہوں نے مسلمانوں کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے یہ حرکت کی۔‘‘
یہ تنازع دراصل ۴ ستمبر کو اترپردیش کے کانپور کے راوتپور علاقے میں عید میلاد النبی ﷺ کی جلوس کے دوران شروع ہوا تھا، جب جلوس کے راستے پر ’’I Love Mohammad‘‘ کے بینر لگائے گئے تھے۔ اس پر کچھ ہندو تنظیموں نے اعتراض کیا تھا اور اسے مذہبی جذبات بھڑکانے کی سازش قرار دیا تھا۔



