ٹی ای ٹی (TET) معاملہ ، 50 لاکھ اساتذہ کے متعلق فیصلہ! اب سپریم کی بڑی بینچ کرے گی ؛ ایک ستمبر 2025 کے فیصلے میں کچھ خامیاں، لارجر بینچ میں قانونی بحث ضروری ، سپریم کورٹ

نئی دہلی: (خصوصی رپورٹ) : ٹیچر اہلیتی امتحان (TET) سے متعلق سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے یہ مان لیا 1 ستمبر 2025 کے فیصلے میں چند خامیاں ہیں جس پر تفصیل سے قانونی پہلوؤں پر لارجر بینچ میں بحث ہونا ضروری ہے ۔ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک پڑھانے والے اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی لازمی قرار دینے کے خلاف دائر عرضیوں پر اب سپریم کورٹ کی بڑی بینچ مفصل سماعت کرے گی۔جسٹس محترم دیپانکر دتہ اور جسٹس محترم آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں کئی قانونی اور آئینی پہلو شامل ہیں۔ لہٰذا یہ عرضی چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کے پاس بھیجی جا رہی ہے تاکہ بڑی بینچ تشکیل دی جا سکے اور تمام پہلوؤں پر گہرائی سے غور کیا جا سکے۔ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے بانی ساجد نثار احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ستمبر 2025 کے فیصل پر نظرثانی کرنے نیز بڑی بینچ قائم کر تفصیل سے قانونی پہلوؤں پر گفتگو ہونا ضروری تھا۔یہ فیصلہ اساتذہ کے مفاد میں ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ ملک کے 50 لاکھ اساتذہ اور امیدواروں کے مستقبل سے جڑا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ اقدام انصاف پر مبنی اور دور رس اثرات رکھنے والا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ بڑی بینچ تمام پہلوؤں پر غور کر کے واضح رہنمائی فراہم کرے گی۔ ساجد نثار کے مطابق توقع کرتے ہیں کہ معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ اساتذہ کے حق میں ہوگا اور یہ فیصلہ ملک بھر کے 50 لاکھ اساتذہ کے مستقبل کو محفوظ اور ان کے حق میں فائدہ مند ثابت ہوگا۔”تعلیمی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک "اہم آئینی موڑ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے اثرات پورے ملک کے ابتدائی و ثانوی تعلیمی نظام پر پڑیں گے۔



