آر۔سی ماہم ڈی۔ایل۔ایڈ کالج میں الوداعی تقریب کا پُرجوش انعقاد

ماہم: آر۔سی ماہم ڈی۔ایل۔ایڈ کالج میں سالِ دوم کے طلبہ کے اعزاز میں سالِ اول کے طلبہ کی جانب سےایک پُروقار اور پُرجوش الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مختلف پروگرام پیش کر کے محفل کو یادگار بنا دیا۔
تقریب کی نظامت سالِ اول کی طالبہ عنیزہ اور مریم نے نہایت خوبصورت انداز میں انجام دی، جنہوں نے اپنے دلنشین اندازِ گفتگو سے سامعین کو مسحور کیے رکھا۔ تقریب کا آغاز شیخ مبشر کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نشرح نے حمدِ باری تعالیٰ پیش کی۔ ثنا نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل کو روحانیت سے معطر کر دیا۔
اس موقع پر امرین نے ایک مؤثر تقریر پیش کی، جس میں انہوں نے الوداعی لمحات کی اہمیت اور تعلیمی سفر کی یادوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ سالِ اول کے طلبہ نے ایک خوبصورت الوداعی گیت پیش کر کے سینئر طلبہ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔تقریب کے دوران سالِ دوم کے طلبہ کے لیے مختلف دلچسپ کھیلوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جن میں طلبہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور خوب لطف اٹھایا۔ ان سرگرمیوں نے تقریب میں خوشی اور مسرت کا رنگ بھر دیا۔جیتنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں سالِ اول کے طلبہ کی جانب سے سالِ دوم کے تمام زیرِ تربیت معلمین کو تحفے دیے گئے۔سالِ دوم کی طالبہ کلثوم صالح، ساحل انصاری، مشاہد رضا اور ابو طلحہٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کالج میں گزارے گئے لمحات کو یاد کیا اور اساتذہ و ساتھی طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی گفتگو میں جذبات اور یادوں کی خوبصورت جھلک نظر آئی۔دو سال کی کارکردگیوں کی بناء پر سالِ دوم کے زیرِ تربیت معلمین کو ٹرافی اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔
اس موقع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر خالد احمد خان نے بھی طلبہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے سالِ دوم کے طلبہ کو ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کیں اور انہیں محنت، لگن اور دیانت داری کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔کالج کے لیکچرر پانڈورنگ کھرات،مومن منصفہ اور نادرہ شیخ نے بھی طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے نیک خواہشات اور دعاؤں سے نوازا۔تقریب کے دوران جذباتی لمحات بھی دیکھنے میں آئے، جہاں ںسالِ دوم کے زیرِ تربیت معلمین نے اپنے اساتذہ اورساتھیوں کے ساتھ گزارے لمحات کو یاد کرتے ہوئے تمام اساتذہ کو گلوں کا نذرانہ اور تحفے پیش کیے۔
تقریب کے اختتام پر طلبہ نے ایک دوسرے سے الوداع کہا اور اپنے تعلیمی سفر کی حسین یادوں کو دلوں میں سمیٹ لیا۔ یہ الوداعی تقریب طلبہ کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوئی، جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔




