بالاپور: شدید گرمی اورسردی اللہ کی نشانی؛ جمعہ کے خطبہ میں اہم نصیحتیں!

بالاپور: (ذاکر احمد) : آج بروز جمعہ 17 اپریل 2026 کو شہر کے مختلف مساجد میں خطبۂ جمعہ کے دوران سخت گرمی اور سردی کے اصل اسباب اور اس میں پوشیدہ دینی سبق پر اہم بیان کیا گیا۔ معروف عالمِ دین مولانا اسماعیل اشاعتی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ دنیا میں پڑنے والی شدید گرمی اور سخت سردی دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں، جو انسان کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔
مولانا اسماعیل اشاعتی نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ حدیثِ مبارکہ کے مطابق جہنم نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی تھی کہ اس کے بعض حصے دوسرے حصوں کو کھا جاتے ہیں، جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی۔ ایک سانس گرمیوں میں اور دوسرا سردیوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں شدید گرمی اور سخت سردی محسوس کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں کا موسم انسان کے لیے عبرت اور نصیحت کا بہترین موقع ہے۔ دنیا کی یہ گرمی اگر انسان برداشت نہیں کر سکتا تو پھر آخرت میں جہنم کی ہولناک اور انتہائی شدید گرمی کو کیسے برداشت کرے گا۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو نیک اعمال سے سنوارے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرے۔
مولانا اسماعیل اشاعتی نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے موسم میں وہ اس دعا کا خاص اہتمام کریں جو نبی کریم ﷺ نے سکھائی ہے کہ “اے اللہ! ہمیں جہنم کی آگ سے پناہ عطا فرما۔” انہوں نے کہا کہ نماز، دعا، صدقہ اور نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کی جا سکتی ہے۔
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی گرمی اور سردی دراصل انسان کو آخرت کی یاد دلانے کے لیے ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور اپنی زندگی کو دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔




