الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ:مہاراشٹر میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جانچ؛ نام خارج ہونے پر 6 دن میں اعتراض کا موقع؛ 30 جون سے مہم کا آغاز
ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مہاراشٹر میں جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع جانچ (SIR) کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے خارج کیے گئے ووٹروں کی فہرست سیاسی جماعتوں کو بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ حتمی فہرست جاری کرنے سے قبل یہ نام سرکاری ویب سائٹ پر بھی شائع کیے جائیں گے اور جن ووٹروں کے نام خارج کیے گئے ہوں گے انہیں اپنے ثبوت پیش کرنے کے لیے 6 دن کی مہلت دی جائے گی۔ یہ یقین دہانی ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر چوکلنگم نے ایک پریس کانفرنس میں دی۔
ملک بھر میں چلائی جانے والی خصوصی جامع جانچ (SIR) کے تیسرے مرحلے میں مہاراشٹر کے 9 کروڑ 86 لاکھ ووٹروں کی دوبارہ جانچ کی جائے گی۔ مردم شماری کے تحت جاری گھر گھر سروے مکمل ہونے کے بعد 30 جون سے ووٹر تصدیقی فارم گھروں تک پہنچا کر اس عمل کا آغاز کیا جائے گا۔
اب تک ریاست کے تقریباً 72 فیصد ووٹروں کی ابتدائی جانچ (میپنگ) مکمل ہو چکی ہے، لہٰذا ان ووٹروں کو شہریت سے متعلق کسی اضافی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم باقی 28 فیصد ووٹروں کی دوبارہ جانچ کے ساتھ ساتھ نقل مکانی کرنے والے افراد اور نئے ووٹروں کے نام شامل کرنا بھی الیکشن کمیشن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
چوکلنگم نے واضح کیا کہ خصوصی جامع جانچ کا مقصد ووٹروں کے نام خارج کرنا نہیں بلکہ ووٹر فہرستوں کو زیادہ درست اور شفاف بنانا ہے۔ وفات پانے والے افراد، نقل مکانی کرنے والے ووٹرز، طویل عرصے سے غیر حاضر افراد اور ایک سے زائد بار درج ناموں کو حذف کر کے فہرست کو بہتر بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خارج کیے گئے ووٹروں کی فہرست ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی اور بوتھ لیول ایجنٹس (BLA) کو بھی فراہم کی جائے گی۔ اگر کسی ووٹر کو اعتراض ہو تو وہ مطلوبہ دستاویزات پیش کر کے اپنے نام کی بحالی کے لیے درخواست دے سکتا ہے، جس کے لیے 6 دن کا وقت دیا جائے گا۔
11 دستاویزات میں سے کوئی ایک لازمی
اگر جانچ کے دوران گھر بند پایا گیا تو متعلقہ عملہ کم از کم تین مرتبہ وہاں جائے گا۔
جن معاملات میں ووٹر کی معلومات سابقہ ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتی، ان کے لیے الیکشن کمیشن نے ثبوت کے طور پر 11 دستاویزات مقرر کی ہیں، جن میں سے کوئی ایک پیش کی جا سکتی ہے۔
آدھار کارڈ کو صرف شناختی ثبوت کے طور پر قبول کیا جائے گا، شہریت کے ثبوت کے طور پر نہیں۔
پہلے سے بھرے ہوئے فارم ملیں گے
جن 72 فیصد ووٹروں کی ابتدائی میپنگ مکمل ہو چکی ہے، انہیں موجودہ تفصیلات کے ساتھ پہلے سے بھرے ہوئے فارم فراہم کیے جائیں گے۔ ان فارموں میں 2002 تا 2004 کے دوران ہونے والی آخری SIR کی معلومات بھی شامل ہوں گی۔
ووٹر اپنا نام، ضلع اور اسمبلی حلقہ جیسی بنیادی معلومات درج کر کے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی اپنی تفصیلات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
غیر موجود افراد کے لیے خود اعلانیہ فارم
اگر جانچ کے وقت کوئی شخص گھر پر موجود نہ ہو تو خاندان کا کوئی دوسرا فرد اس کی جانب سے معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم اگر ایسا کوئی فرد موجود نہ ہو تو متعلقہ شخص کو فارم نمبر 6 کے تحت خود اعلانیہ فارم جمع کرانا ہوگا۔
اگر کسی شخص کا نام تبدیل ہو چکا ہو، مثلاً شادی کے بعد خاتون کا نام بدلا ہو، تو اس کے لیے متعلقہ دستاویزات مثلاً نکاح یا شادی کی رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ضروری ہوگا۔
ناموں میں تضاد پر نوٹس جاری ہوں گے
ووٹر فہرست کا مسودہ جاری ہونے کے بعد جن ووٹروں کے ناموں میں تضاد یا دیگر بے ضابطگیاں پائی جائیں گی، انہیں نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ ایسے ناموں کی فہرست، خارج کیے جانے کی وجوہات کے ساتھ، مقامی خود مختار اداروں، تحصیل دفاتر، ضلعی انتخابی دفاتر اور سرکاری ویب سائٹس پر آویزاں کی جائے گی۔
سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی تقرری
جانچ کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے ہر پولنگ مرکز پر بوتھ لیول ایجنٹس (BLA) مقرر کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے مطابق اب تک 1 لاکھ 13 ہزار BLA مقرر کیے جا چکے ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ 52 ہزار 115 نمائندے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہیں۔ اس کے بعد شیوسینا (شندے گروپ) کے 17 ہزار 800، کانگریس کے 17 ہزار 421، شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے 10 ہزار 140، این سی پی (اجیت پوار گروپ) کے 6 ہزار 472، این سی پی (شرد پوار گروپ) کے 4 ہزار 468، مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے 3 ہزار 848، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے 193 اور عام آدمی پارٹی (آپ) کے 57 نمائندے شامل ہیں۔




