قربانی کے نام پر سستی اسکیموں کا جال، مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی اپیل

بالاپور: (بذریعہ ذاکر احمد) :عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی مختلف مسلم علاقوں، مساجد کے باہر اور سوشل میڈیا پر “1500 روپے میں حصہ”، “1800 میں قربانی” اور “2100 میں بڑے کا حصہ” جیسے اشتہارات تیزی سے پھیلنے لگتے ہیں۔ ان اشتہارات میں اکثر یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ قربانی شہر سے باہر ہوگی اور گوشت نہیں دیا جائے گا۔
دینی و سماجی حلقوں میں اس رجحان پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ قربانی جیسی عظیم عبادت کو بعض افراد نے کاروبار اور کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ایک بڑے جانور کی قیمت 25 سے 30 ہزار روپے یا اس سے زیادہ ہے اور گوشت کی قیمت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، تو آخر اتنی کم رقم میں قربانی کس معیار کی کی جا رہی ہے؟
کئی معاملات میں نہ جانور دکھایا جاتا ہے، نہ اس کا وزن بتایا جاتا ہے، نہ حصے داروں کی مکمل تفصیل دی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی شفاف حساب رکھا جاتا ہے۔ ایسے میں عام مسلمان صرف اعتماد اور سادگی کی بنیاد پر رقم جمع کرا دیتے ہیں۔
علمائے کرام اور سماجی ذمہ داران نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ قربانی جیسے مقدس عمل میں صرف سستی اسکیموں کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ اطمینان، دیانت داری اور شرعی اصولوں کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ جس معاملے میں دھوکہ، جھوٹ یا خیانت شامل ہو، ایسی قربانی اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے عوام سے تاکید کی کہ وہ قربانی سے پہلے مکمل معلومات حاصل کریں، جانور کی حقیقت جانیں، معتبر اور دیانت دار افراد کے ذریعے ہی قربانی کروائیں اور دوسروں کو بھی ایسے مشکوک معاملات سے بچائیں۔ ساتھ ہی متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قربانی کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔




