مہاراشٹر

نیٹ پیپر لیک معاملہ : آرسی سی کلاسز کے ڈائریکٹرپروفیسرشیوراج موٹےگاؤکرگرفتار

پونے : (کاوش جمیل نیوز) :ملک بھر میں سنسنی پھیلانے والے ‘نیٹ’ پیپر لیک معاملے میں لاتور کے معروف کوچنگ ادارے ‘آر سی سی کلاسز’ کے ڈائریکٹر پروفیسر شیوراج موٹےگاؤکر کو مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے پیر کے روز گرفتار کر لیا۔ پونے کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے انہیں ۹ دنوں کی سی بی آئی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اتوار کے دن پروفیسر موٹےگاؤکر سے سی بی آئی دفتر میں کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اس دوران لاتور میں ان کے دفتر اور رہائش گاہ پر چھاپہ مار کارروائی بھی کی گئی، جہاں سے کیمسٹری مضمون سے متعلق سوالیہ پرچے برآمد ہوئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انہی سوالات میں سے کئی سوالات ۳ مئی کو منعقدہ ‘نیٹ’ امتحان میں شامل تھے۔
سی بی آئی کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پروفیسر موٹےگاؤکر کا اس پورے پیپر لیک ریکیٹ سے براہِ راست تعلق تھا۔ ان کے دفتر اور گھر سے اہم دستاویزات، لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کیے گئے ہیں، جن کی فرانزک جانچ کی جا رہی ہے۔
عدالت میں سی بی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے ملزم سے مزید تفتیش ضروری ہے، اسی لیے عدالت نے انہیں ۹ دن کی تحویل میں بھیج دیا۔ ذرائع کے مطابق، پروفیسر موٹےگاؤکر کو مزید تحقیقات کے لیے دہلی کے سی بی آئی دفتر منتقل کیا جائے گا۔
اس معاملے میں ایک اور اہم گرفتاری حیاتیات کی استاد منیشا گوروناتھ مانڈھرے کی ہوئی ہے، جسے دہلی سے گرفتار کیا گیا۔ عدالت نے اسے ۱۴ دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ وہ امتحانی عمل سے منسلک تھی اور نباتیات و حیوانیات کے سوالیہ پرچوں تک اس کی رسائی تھی۔
سی بی آئی کی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ پونے کے ببھوے واڑی علاقے میں واقع ایک بیوٹی پارلر میں چند طلبہ کو خفیہ طور پر سوالات اور درست جوابات کی رہنمائی دی گئی تھی۔ اس معاملے میں بیوٹی پارلر چلانے والی منیشا واگھمارے کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
اس پورے ریکیٹ کا مرکزی ملزم پروفیسر پی۔ وی۔ کلکرنی پہلے ہی گرفتار ہو چکا ہے، جو امتحانی نظام سے وابستہ تھا۔ پروفیسر موٹےگاؤکر اور کلکرنی دونوں کا تعلق لاتور سے بتایا جا رہا ہے۔
سی بی آئی نے اس معاملے میں جے پور، گروگرام، ناسک، پونے، اہلیہ نگر اور لاتور سمیت مختلف شہروں میں چھاپے مارے ہیں۔ اب تک اس کیس میں ۱۰ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تمام سے مسلسل پوچھ گچھ جاری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!