این سی پی میں پھر ہلچل، سنیل تٹکرے اورپرفل پٹیل کے عہدوں پرسوال؛ دونوں رہنماؤں کے نام کے آگے ان کے اہم عہدوں کا ذکرنہیں

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :سنیل تٹکرے اورپرفل پٹیل کے عہدوں کو لے کر ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق راشٹروادی کانگریس(اجیت پوار) کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی نئی فہرست میں دونوں رہنماؤں کے نام کے آگے ان کے اہم عہدوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ممبئی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق 29 اپریل کو الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے خط میں اروناچل پردیش کے رہنما ٹوکو تاتونگ کے نام کے آگے “پردیش صدر” لکھا گیا ہے، لیکن سنیل تٹکرے کے نام کے ساتھ مہاراشٹر پردیش صدر کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ ان کے نام کے آگے صرف “لوک سبھا گروپ لیڈر” تحریر کیا گیا ہے۔
اسی طرح پرفل پٹیل کے نام کے ساتھ بھی “قومی کارگزار صدر” کا عہدہ درج نہیں کیا گیا، بلکہ صرف “راجیہ سبھا گروپ لیڈر” لکھا گیا ہے۔ اس کے بعد پارٹی کے اندر نئی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ آیا ان دونوں رہنماؤں کو ان کے عہدوں سے دور کیا جا رہا ہے؟
چند روز قبل پارٹی کی قومی صدر سنیترا پوار نے سوشل میڈیا پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ محض تکنیکی اور کلریکل غلطی ہے جسے جلد درست کر دیا جائے گا، لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق اب تک اس خط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی خط میں پارتھ پوار اور جئے پوار کے نام جنرل سیکریٹری کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا تٹکرے اور پرفل پٹیل کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے پارٹی کے اندرونی اختلافات یا پارتھ پوار کے ساتھ جاری سرد جنگ کارفرما ہے؟
یاد رہے کہ مارچ میں بھی الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی فہرست میں اسی طرح کا تنازع سامنے آیا تھا۔ اب دوسری بار یہی معاملہ سامنے آنے کے بعد سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر بار بار یہی غلطی کیوں ہو رہی ہے؟ کیا یہ صرف تکنیکی خامی ہے یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی حکمتِ عملی چھپی ہوئی ہے؟



