اہم خبریں

اُناؤ عصمت دری کیس: سپریم کورٹ کا کلدیپ سینگر کو بڑا جھٹکا؛ کلدیپ سینگر کی عمر قید پر روک ختم،دوبارہ سماعت کے دیئےاحکامات

دہلی: (کاوش جمیل نیوز) :اُناؤ عصمت دری کیس میں سپریم کورٹ نے سابق بی جے پی رکن اسمبلی Kuldeep Singh Sengar کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے، جس میں اُس کی عمر قید کی سزا پر روک لگا کر ضمانت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو یہ اہم فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ 2017 کے اس حساس مقدمے کی دوبارہ سماعت کی جائے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ سینگر کی سزا اور عمر قید کے خلاف دائر اپیل پر دو ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ عدالتِ عظمیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مقررہ مدت میں اپیل پر سماعت مکمل نہ ہو سکے تو ہائی کورٹ سزا معطل کرنے کی درخواست پر نئے سرے سے غور کرے۔
یاد رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے عصمت دری کے مقدمے میں سزا کے خلاف اپیل زیرِ التوا ہونے کے دوران سینگر کی عمر قید کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے ضمانت دی تھی۔ اس فیصلے کو سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر اب عدالتِ عظمیٰ نے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ وہ اس معاملے کی میرٹ پر کوئی رائے ظاہر نہیں کر رہی، تاہم ہائی کورٹ گرمیوں کی تعطیلات سے قبل مناسب حکم جاری کرے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ آیا پوکسو قانون کے تحت سینگر کو “لوک سیوک” یعنی عوامی نمائندہ مانتے ہوئے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 29 دسمبر کو بھی سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے اُس حکم کو رد کر دیا تھا، جس کے تحت سینگر کو جیل سے رہا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد ازاں 23 دسمبر 2025 کو دہلی ہائی کورٹ نے اُناؤ عصمت دری کیس میں سینگر کو پوکسو ایکٹ کی دفعہ 5(C) کے تحت قصوروار قرار دیا تھا۔
عدالت نے ابتدا میں سینگر کو “لوک سیوک” مانا تھا، لیکن بعد میں بھارتی تعزیرات کی دفعہ 21 کے تحت منتخب نمائندے کو اس تعریف میں شامل نہ ماننے کا فیصلہ دیا گیا۔ چونکہ سینگر تقریباً سات سال پانچ ماہ جیل میں گزار چکا ہے، اس لیے ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت مکمل ہونے تک اس کی سزا معطل کی تھی، جسے اب سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!