بالاپور:سب سے پہلے اساتذہ کو ہی تربیت دیں! اب ہر استاد کے لیے 50 گھنٹے کی لازمی تربیت؛ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کا بڑا قدم

بالاپور : (بذریعہ ذاکر احمد) :ریاستی حکومت نے تعلیمی نظام کو زیادہ مؤثر، جدید اور معیاری بنانے کے مقصد سے ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ اب جماعت اول تا دوازدہم تک کی تمام سرکاری اور امدادی نجی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے ہر سال کم از کم 50 گھنٹے کی “مسلسل پیشہ ورانہ ترقی” (CPD) تربیت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کو تعلیمی شعبہ میں ایک مثبت اور دور رس اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق اساتذہ کو جدید طرزِ تدریس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، طلبہ کی نفسیات کو سمجھنے، نئی تعلیمی پالیسی اور مضامین سے متعلق جدید اختراعات کے بارے میں تربیت دی جائے گی۔ اس سے اساتذہ خود کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ رکھ سکیں گے اور طلبہ کو زیادہ مؤثر انداز میں تعلیم دے سکیں گے۔
محکمۂ تعلیم کے افسران کے مطابق موجودہ دور میں تعلیمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، ایسے میں اساتذہ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور نئے تدریسی طریقوں سے واقف ہونا بے حد ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت یہ تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے تاکہ جماعت میں تدریس کو زیادہ دلچسپ، مؤثر اور طلبہ مرکز بنایا جا سکے۔
ماہرینِ تعلیم کا ماننا ہے کہ کسی بھی قوم کا مستقبل اساتذہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر اساتذہ تربیت یافتہ اور باصلاحیت ہوں تو طلبہ کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما بہتر انداز میں ہو سکتی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ دیہی اور شہری علاقوں کے تعلیمی معیار کے فرق کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اساتذہ کے لیے یہ تربیت آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے فراہم کی جائے گی۔ محکمۂ تعلیم کی جانب سے وقتاً فوقتاً ورکشاپس، ویبینار اور خصوصی تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا۔ تعلیمی شعبہ سے وابستہ کئی افراد نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ “سب سے پہلے اساتذہ کو تربیت دینا” ہی تعلیمی اصلاحات کی اصل شروعات ہے۔




