مہاراشٹر

اورنگ آباد: ندا خان کیس: ایم آئی ایم کارپوریٹرمتین پٹیل کے مکان پرکارروائی، کیا یہ گھر ملک کے لیے خطرہ تھا؟ امتیاز جلیل کا حکومت پر حملہ؛

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :ناسک کے ٹی سی ایس مذہب تبدیلی اورجنسی ہراسانی معاملے میں آج اورنگ آباد کے نارے گاؤں میں ندا خان کو پناہ دینے کے الزام میں ایم آئی ایم کے کارپوریٹرمتین پٹیل کے گھر پر بلڈوزر کارروائی کرتے ہوئے اسے منہدم کر دیا گیا۔ اس کارروائی پر سابق رکنِ پارلیمان امتیاز جلیل نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن اور وزیر سنجے شرساٹھ پرشدید تنقید کی۔
امتیاز جلیل نے کہا، ’’میں متین پٹیل کے خاندان کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے میونسپل افسران اور پولیس پر پھول برسائے۔ آج اس ملک اور ریاست میں جو کچھ ہو رہا ہے، ہم شروع سے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کسی شخص پر الزام لگتے ہی کچھ تنظیمیں اور سیاسی لیڈر اسے مجرم قرار دے دیتے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن سے سوال ہونا چاہیے کہ کیا اس شہر میں صرف ایک ہی غیر قانونی مکان ہے؟ اگر مکان واقعی غیر قانونی تھا تو اس پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن سیاسی فائدے کے لیے اس طرح کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کسی بھی مکان کو منہدم کرنے سے پہلے 15 دن کی نوٹس دینا ضروری ہے۔ متین پٹیل کے وکیلوں نے ہائی کورٹ سے 15 دن کی مہلت مانگی تھی، لیکن میونسپل کارپوریشن اور سرکاری وکیل اس پر راضی نہیں تھے۔ امتیاز جلیل نے سوال اٹھایا کہ’’سماعت کے 24 گھنٹے بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ صبح چار بجے پولیس اور افسران کو نارے گاؤں بلایا گیا اور صبح چھ بجے گھر توڑنے کی کارروائی شروع کر دی گئی۔ کیا یہ کوئی قومی سلامتی کا معاملہ تھا؟ کیا یہ گھر ملک کے لیے خطرہ بن گیا تھا؟‘‘
انہوں نے کہا کہ دوپہر 12 بجے نوٹس چسپاں کی گئی اور 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی کر دی گئی۔ ’’میں نارے گاؤں گیا، متین پٹیل کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں سے ملاقات کی۔ میں نے سب سے یہی کہا کہ متین پر ابھی تک الزام ثابت نہیں ہوا ہے۔ سیاسی لیڈر، تنظیمیں اور میڈیا کسی شخص کو پہلے ہی مجرم قرار دے دیتے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ اس میں متین کے والدین، بیوی اور بچے کا کیا قصور ہے؟‘‘
امتیاز جلیل نے اعلان کیا کہ ’’جس شخص کا گھر گرایا گیا ہے، اسے ابھی تک عدالت نے مجرم قرار نہیں دیا۔ ہم اس کا گھر دوبارہ شاندار طریقے سے تعمیر کریں گے، عوامی چندہ جمع کریں گے اور خود بھی اس میں تعاون کریں گے۔‘‘
اس دوران انہوں نے وزیر سنجے شرساٹھ پر بھی سخت حملہ کرتے ہوئے کہا، ’’اگر میں یہ کہوں کہ سنجے شرساٹھ اور بھوندوبابا اشوک کھرات رشتہ دار ہیں تو مجھے یہ ثابت کرنا ہوگا۔ سنجے شرساٹھ کوئی عدالت نہیں ہیں۔ وہ ثابت کریں کہ ندا خان میری رشتہ دار ہے، ورنہ میں انہیں عدالت میں گھسیٹوں گا۔ اگر ایسے لوگ میرے شہر کے نگراں وزیر ہوں گے تو میں ان کی عزت نہیں کروں گا۔‘‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!