مضامین

بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلی کی لہر، ضیاء خاندان کی واپسی؛ بی این پی کی فیصلہ کن کامیابی، طارق رحمٰن وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار

کاوش جمیل
اسپیشل رپورٹ
ڈھاکہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات نے ملکی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری نتائج کے مطابق Bangladesh Nationalist Party (بی این پی) نے واضح اور فیصلہ کن اکثریت حاصل کر کے پارلیمان میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے، جس کے بعد جماعت کے قائد Tarique Rahman یعنی طارق رحمٰن وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط اور متوقع امیدوار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ملک کی 300 براہِ راست نشستوں میں بی این پی نے دو تہائی کے قریب کامیابی حاصل کی، جس کے باعث Jatiya Sangsad میں حکومت سازی کا مرحلہ تقریباً یقینی تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ انتخابات ایک ایسے ماحول میں منعقد ہوئے جب ملک گزشتہ برسوں میں سیاسی کشمکش، عوامی احتجاج اور معاشی دباؤ سے گزر چکا ہے۔ دارالحکومت Dhaka سمیت مختلف شہروں میں ووٹرز کی نمایاں شرکت نے اس امر کی نشاندہی کی کہ عوام سیاسی استحکام اور قیادت کی تبدیلی کے خواہاں تھے۔ بی این پی نے اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی، بے روزگاری، جمہوری آزادیوں کی بحالی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مرکزی نکات بنایا، جسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی۔
طارق رحمٰن کی شخصیت اور سیاست کو سمجھنے کے لیے ان کی خاندانی و نظریاتی وراثت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ وہ سابق صدر Ziaur Rahman کے صاحبزادے اور دو مرتبہ وزیرِ اعظم رہنے والی Khaleda Zia کے فرزند ہیں۔ ضیاء الرحمن نے بی این پی کی بنیاد رکھ کر بنگلہ دیش میں ایک مخصوص قومی و جمہوری بیانیہ متعارف کرایا، جبکہ خالدہ ضیاء نے پارلیمانی سیاست میں اس نظریے کو آگے بڑھایا۔ اسی سیاسی پس منظر نے طارق رحمٰن کو ایک ایسی وراثت فراہم کی جو قومی سیاست میں گہرا اثر رکھتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق طارق رحمٰن نے محض خاندانی نسبت پر انحصار نہیں کیا بلکہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ طویل عرصے تک بی این پی کے سینیئر نائب چیئرمین کے طور پر سرگرم رہے، کارکنان کو منظم کیا، نوجوان قیادت کو آگے لائے اور ڈیجیٹل مہم کو مؤثر بنایا۔ ماضی میں ان پر قائم مقدمات اور الزامات کو ان کے حامی سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے قانونی احتساب سے تعبیر کرتے ہیں، تاہم حالیہ انتخابی نتائج نے انہیں دوبارہ مرکزی قیادت کے طور پر مستحکم کر دیا ہے۔
بی این پی کی آئندہ حکومتی ترجیحات میں معاشی بحالی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات، عدالتی و انتخابی اصلاحات اور انتظامی شفافیت شامل ہیں۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ نئی حکومت سیاسی محاذ آرائی کو کم کر کے قومی مفاہمت کو فروغ دے گی تاکہ طویل مدتی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق طارق رحمٰن کے لیے سب سے بڑا امتحان اپنی تاریخی وراثت کو عملی حکمرانی میں تبدیل کرنا ہوگا۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی پارلیمانی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ Jamaat-e-Islami Bangladesh نے متعدد نشستیں حاصل کر کے خود کو ایک مؤثر اپوزیشن قوت کے طور پر منوایا ہے اور انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اسی طرح Awami League سے وابستہ قیادت اور سابق وزیرِ اعظم Sheikh Hasina کی جانب سے بھی انتخابی نتائج پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ جمہوری انداز میں حکومت کا احتساب کرے گی اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے پارلیمان میں بھرپور آواز اٹھائے گی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ بی این پی کو عددی برتری حاصل ہے، تاہم پائیدار استحکام کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مکالمہ ناگزیر ہوگا۔ بنگلہ دیش کی سیاست ماضی میں شدید محاذ آرائی کا شکار رہی ہے، اس لیے طارق رحمٰن کی ممکنہ قیادت کے سامنے قومی ہم آہنگی، معاشی بہتری اور جمہوری اداروں کی مضبوطی جیسے اہم چیلنجز موجود ہوں گے۔
مجموعی طور پر حالیہ انتخابات نے بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ پیدا کیا ہے۔ بی این پی کی کامیابی اور طارق رحمٰن کا ابھرتا ہوا کردار اس بات کی علامت ہے کہ ملک ایک نئی قیادت کے دور میں داخل ہو رہا ہے، جبکہ اپوزیشن کی فعال موجودگی جمہوری توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی حیثیت رکھے گی۔ آنے والے دنوں میں حلف برداری اور نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہو جائے گا اور یہ طے ہوگا کہ آیا یہ تبدیلی عوامی توقعات پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!