اورنگ آباد: وائس پرنسپل شیخ عباس سرکی درخشاں تعلیمی خدمات کوخراجِ تحسین

از قلم : وقار احمد ندوی
لکچرر مولانا آزاد کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس اورنگ آباد
مولانا آزاد کالج اورنگ آباد کے نہایت محترم، مخلص اور باوقار استاد و وائس پرنسپل جناب شیخ عباس شیخ غفور صاحب اپنی 36 سالہ طویل اور مثالی تدریسی و انتظامی خدمات کے بعد سبکدوش ہو رہے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ محض ایک فرد کی ملازمت کا اختتام نہیں بلکہ ادارے کی ایک روشن اور سنہری عہد کا اختتام ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، تربیت اور طلبہ کی ہمہ جہت رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔
حیات و تعلیم
شیخ عباس شیخ غفور صاحب کی پیدائش 1968ء میں ضلع بلڈھانہ کے ایک چھوٹے سے قصبے ساکرکھیرڈا میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم ملکاپور پانگرا کے پرائمری اسکول اور اردو ہائی اسکول ساکر کھیرڈا سے حاصل کی، جب کہ ایس ایس سی مراٹھی میڈیم سے ایس ای ایس ہائی اسکول ساکر کھیرڈا سے مکمل کیا۔ دیہی علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولت نہ ہونے کے باعث آپ نے اورنگ آباد کا رخ کیا، جہاں مولانا آزاد کالج روضہ باغ میں جونیئر کالج سے لے کر بی ایس سی تک کی تعلیم حاصل کی۔
بعد ازاں آپ نے مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے ایم ایس سی (فزکس) کی ڈگری حاصل کی اور مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن، اورنگ آباد سے بی ایڈ کیا۔ 1983ء سے 1986ء تک آپ مولانا آزاد کالج کے ہاسٹل میں مقیم رہے اور نہایت تنگدستی اور محدود وسائل کے باوجود ثابت قدمی کے ساتھ تعلیم جاری رکھی۔ مالی دشواریوں، رہائش کے مسائل اور دیگر مشکلات کے باوجود آپ نے حوصلہ نہیں ہارا بلکہ محنت اور عزم کے ذریعے اپنی علمی منزل حاصل کی۔
تدریسی سفر
مولانا آزاد کالج سے قلبی وابستگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1991ء میں آپ کا تقرر اسی ادارے میں بطور لیکچرر فزکس ہوا۔ اس طرح 1991ء سے 2026ء تک آپ نے مسلسل 34 برس تک تعلیمی خدمات انجام دیں۔ اس دوران آپ نے مختلف پرنسپلز کی نگرانی میں کام کیا جن میں ڈاکٹر مظہر محی الدین صاحب، ڈاکٹر احمد ظہیر صاحب، ڈاکٹر مخدوم فاروقی صاحب اور ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی صاحب جیسے نام شامل ہیں۔ ان اساتذہ کی رہنمائی نے آپ کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔ آپ کی تعلیمی زندگی میں ڈاکٹر شیخ سلیم کی خصوصی سرپرستی بھی شامل رہی، جن کی رہنمائی نے آپ کے تعلیمی اور انتظامی سفر کو استحکام بخشا۔
تعلیمی و انتظامی خدمات
اپنی 34 سالہ خدمات کے دوران آپ نے 15 برس بطور ایگزامینر، 15 برس بطور ماڈریٹر اور دو مرتبہ چیف ماڈریٹر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں۔ کالج انتظامیہ نے آپ کی قابلیت پر اعتماد کرتے ہوئے 13 برس تک آپ کو مانو (MANUU) کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ، جہاں آپ نے ریاست بھر کے اساتذہ و معلمات کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور اس پروگرام کو ایک نئی جہت عطا کی۔
ضلع پریشد کی جانب سے آپ کو انسپیکشن انسپکٹر منتخب کیا جانا آپ کی صلاحیتوں کا عملی اعتراف ہے۔ 2022ء میں آپ کو سپروائزر اور 2023ء میں وائس پرنسپل مقرر کیا گیا، جس عہدے پر فائز رہتے ہوئے آپ نے نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور طلبہ کی رہنمائی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔
طلبہ کی رہنمائی اور اثرات
آپ کی محنت کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ آپ کے شاگرد آج مہاراشٹر اور ملک کے مختلف حصوں میں ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ اور دیگر اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ ڈاکٹر اشفاق، ڈاکٹر مقتدر، ڈاکٹر اشتیاق، ڈاکٹر نشید، ڈاکٹر فیصل اور انجینئر مزمل سمیت بے شمار طلبہ آپ کی علمی تربیت کا نتیجہ ہیں۔ آپ نے نہ صرف تعلیمی بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی اور کئی طلبہ کی مالی مدد ذاتی طور پر کی۔
ادارے کے لیے خدمات
کالج کی ترقی کے لیے آپ نے دن رات محنت کی۔ اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر ادارے کے مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ اساتذہ، نان ٹیچنگ اسٹاف اور طلبہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ نے کبھی ذاتی فائدے کو ترجیح نہیں دی بلکہ ہر قدم ادارے کی بہتری کے لیے اٹھایا۔ آپ کی محنت، لگن، نظم و ضبط اور خلوص آج بھی کالج کے ماحول میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
خاندانی و سماجی کردار
آپ نے اپنے خاندان اور رشتہ داروں میں بھی تعلیم کا شعور بیدار کیا۔ آپ کی رہنمائی سے متعدد افراد ڈاکٹر، انجینئر اور اساتذہ بن کر معاشرے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح آپ کی خدمات کا دائرہ صرف ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے تک پھیلا ہوا ہے۔
آخر میں ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ جناب شیخ عباس شیخ غفور صاحب کو صحت و عافیت، طویل عمر اور خوشیوں بھری زندگی عطا فرمائے۔ آپ نے جس خلوص، محنت اور ایثار کے ساتھ نسلوں کی تربیت کی وہ یقیناً آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہے۔ مولانا آزاد کالج آپ کی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے یاد رکھے گا۔
واقعی، شیخ عباس صاحب ایک استاد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں۔



