بیڑ کی ایک روزہ ہڑتال سے اٹھتا سوال: سرکاری ملازمین اوراساتذہ کے مطالبات آخر کب منظور ہوں گے؟

سید فاروق احمد قادری
بیڑ،مہاراشٹر
بیڑ ضلع میں ایک روزہ ہڑتال سے جو آواز اٹھی ہے، وہ محض ایک دن کا احتجاج نہیں بلکہ برسوں کی بے چینی، محرومی اور نظراندازی کا اظہار ہے۔ دفاتر بند رہے، تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو بار بار سڑک پر کیوں آنا پڑتا ہے؟
سرکاری ملازمین اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان کے جائز مطالبات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ پرانی پنشن اسکیم کی بحالی، سروس فکسیشن کی خامیوں کی درستگی، ترقیوں میں شفافیت اور بقایاجات کی ادائیگی جیسے مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ یہ اضافی مراعات نہیں بلکہ بنیادی حقوق کا سوال ہے۔
سب سے اہم مسئلہ 18 مہینے کے ڈی اے (مہنگائی الاؤنس) کا ہے، جو کورونا دور کا بقایا ہے۔ حکومت کی جانب سے ادائیگی کا عندیہ دیا گیا، مگر عملی طور پر رقم تاحال ادا نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ حق تسلیم شدہ ہے تو ادائیگی میں تاخیر کیوں؟ کیا مہنگائی نے ان مہینوں میں کسی کو ریلیف دیا تھا؟
دوسری طرف جب اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو عوامی نمائندوں کے بھتّوں، سفری سہولتوں، سیکورٹی اور دیگر مراعات پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ جلسوں اور سیاسی پروگراموں پر بھی بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ لیکن جب بات اساتذہ اور ملازمین کے حقوق کی آتی ہے تو وسائل محدود کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
شکشن سنگھٹنا پرہار کا کردار
اس تحریک کے پس منظر میں “شکشن سنگھٹنا پرہار”نامی تنظیم کا ذکر بھی سامنے آتا ہے۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر مراٹھی اساتذہ کی نمائندگی کرتی ہے، لیکن اردو اساتذہ سمیت دیگر طبقات کے مسائل پر بھی آواز اٹھاتی رہی ہے۔ یہی دراصل بھارتی ثقافت کی اصل پہچان ہے — زبان یا برادری سے بالاتر ہو کر انصاف کی بات کرنا۔
سرکاری ملازمین اور اساتذہ کا سوال سادہ ہے:
اگر ریاست کا خزانہ عوام کا ہے تو عوام کی خدمت کرنے والے اساتذہ اور ملازمین اس کے حق دار کیوں نہیں؟
ایک طرف کہا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، وسائل محدود ہیں، قوانین کی رکاوٹیں ہیں۔
لیکن دوسری طرف ارکانِ اسمبلی اور ارکانِ پارلیمنٹ کے الاؤنس اور سہولیات میں اضافہ باآسانی منظور ہو جاتا ہے۔ نئی گاڑیاں، نئی سہولیات اور نئے بھتے فوراً منظور ہو جاتے ہیں۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
جو استاد ایک بچے کو سنوارتا ہے، کیا وہ صرف تنخواہ لینے والا ملازم ہے؟
یا وہ قوم کی بنیاد رکھنے والا معمار ہے؟
استاد کا مقام اور بدلتا ہوا سیاسی ماحول
استاد صرف ایک گھر نہیں بلکہ پورا ملک سنوارتا ہے۔
وہ صرف نصابی کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ اخلاق، اتحاد اور انسانیت کا سبق دیتا ہے۔
وہ صرف امتحان کی تیاری نہیں کرواتا بلکہ آنے والی نسل کا مستقبل تعمیر کرتا ہے۔
پھر یہی طبقہ مسلسل دباؤ، عدم تحفظ اور نظراندازی کا شکار کیوں ہے؟
مہنگائی بڑھ رہی ہے، ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں، لیکن تنخواہوں میں اضافہ اور سروس سکیورٹی کے مسائل اب بھی زیرِ التوا ہیں۔ پرانی پنشن اسکیم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ ترقیاں تاخیر کا شکار ہیں۔ اردو اور دیگر لسانی طبقات کے حقوق کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
سیاسی ماحول بھی بدل رہا ہے۔ مذہب اور زبان کے نام پر تقسیم کی فضا پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ بھارت کی اصل طاقت اس کی تنوع اور یکجہتی میں ہے — جہاں مراٹھی، اردو، ہندی، تمل اور دیگر تمام زبانیں اور ثقافتیں ایک ساتھ پروان چڑھتی ہیں۔
اگر استاد کمزور ہوگا تو معاشرہ کمزور ہوگا۔
اگر تعلیم کو نظرانداز کیا گیا تو ملک کا مستقبل متاثر ہوگا۔
اصل سوال
سوال یہ نہیں کہ ہڑتال کتنے دن چلے گی،
اصل سوال یہ ہے کہ انصاف کب ملے گا؟
حکومت کو چاہیے کہ اساتذہ اور سرکاری ملازمین کو بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ سمجھے۔ ان سے مکالمہ کرے، شفاف فیصلے کرے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک اختیار کرے۔ کیونکہ قوم کی تعمیر پارلیمنٹ کی عمارت میں نہیں بلکہ کلاس روم میں ہوتی ہے۔
اور جب استاد مطمئن ہوگا، تبھی بھارت حقیقی معنوں میں مضبوط بنے گا۔



