ممبئی میں افسوسناک سانحہ: ایک ہی مسلم خاندان کے 4 افراد جاں بحق؛ بریانی کے بعد تربوزکھانا مہنگا پڑا، 12 گھنٹوں میں 4 اموات

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :ممبئی کے جنوبی علاقے پائیدھونی میں ایک انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ اموات ممکنہ طور پر کھانے میں زہریلا پن (فوڈ پوائزننگ) کے باعث ہوئی ہیں، جبکہ پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عبداللہ قادر (عمر 40 سال)، ان کی اہلیہ نسرین (35 سال)، اوردو بیٹیاں عائشہ (16 سال) اور زینب (13 سال) ہفتہ کی رات اپنے دیگر پانچ رشتہ داروں کے ساتھ بریانی کی دعوت میں شریک ہوئے تھے۔ بریانی کھانے کے بعد سب لوگ اپنے گھر پائیدھونی واپس آگئے۔
گھر پہنچنے کے بعد رات تقریباً 1 بجے خاندان کے افراد نے میٹھے کے طور پر تربوز کھایا۔ اس وقت تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر صبح تقریباً 5 بجے اچانک سب کی طبیعت بگڑنے لگی۔ شدید قے اور دست کی شکایت کے باعث ان کی حالت تیزی سے خراب ہو گئی، یہاں تک کہ وہ اٹھنے کے قابل بھی نہیں رہے۔
پڑوسیوں کو جب اس صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے اسی عمارت کی چوتھی منزل پر رہنے والے ڈاکٹر قریشی کو فوری طور پر بلایا۔ ڈاکٹر نے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی، مگر حالت بگڑتی دیکھ کر انہیں فوراً جے جے اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
اس افسوسناک واقعے میں سب سے پہلے کمسن زینب کا صبح 10:15 بجے انتقال ہوا۔ اس کے بعد والدہ نسرین اور بڑی بیٹی عائشہ بھی جانبر نہ ہو سکیں۔ رات 10:30 بجے خاندان کے سربراہ عبداللہ نے بھی دم توڑ دیا۔
ڈاکٹر زیاد قریشی کے مطابق تمام مریضوں کی حالت انتہائی نازک تھی۔ شدید قے اور اسہال کی وجہ سے ان کا جسم بہت کمزور ہو چکا تھا۔ انہوں نے فوری اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ جب مریضوں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے رات کو کیا کھایا تھا تو انہوں نے تربوز کھانے کا ذکر کیا۔
اسپتال میں داخلے کے بعد عبداللہ کو کچھ دیر کے لیے ہوش آیا، جس دوران انہوں نے واقعے کی مکمل تفصیل بیان کی۔ پولیس ان کے بیان کو اہم شواہد کے طور پر دیکھ رہی ہے اور اسی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے۔
غذائیت کی ماہر روپالی دتہ کے مطابق تربوز میں پانی اور قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اگر اس میں کوئی ملاوٹ یا آلودگی ہو تو بیکٹیریا بہت تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی خوراک اگر خراب ہو جائے تو شدید فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خوراک کی صفائی اور معیار کا خاص خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔




