سرکاری کام میں رکاوٹ کیس: اہم دفعات سے بری، مگر سزا برقرار: رانے کو راحت بھی، سزا بھی؛ انجینئر پر کیچڑ پھینک کیس میں فیصلہ؛ نیتیش رانے کو ایک لاکھ جرمانہ اورایک ماہ قید

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :ممبئی-گوا ہائی وے کے انجینئر پرکیچڑ پھینک کر سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کے مقدمے میں عدالت نے سندھو دُرگ کے سرپرست وزیر نیتیش رانے کو بڑے الزامات سے بری کر دیا ہے۔ تاہم، عوامی امن میں خلل ڈالنے اور دوسروں کو اس کے لیے اُکسانے کے جرم میں انہیں قصوروار ٹھہراتے ہوئے ایک ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔
ضلع و ایڈیشنل سیشن جج محترمہ وی۔ ایس۔ دیشمکھ نے آج یہ فیصلہ سنایا۔ اس مقدمے میں شامل دیگر 29 ملزمان کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔ اس دوران، ان کے وکیل ایڈوکیٹ سنگرام دیسائی نے بتایا کہ اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے گی، اور تب تک اس سزا پر روک لگا دی گئی ہے۔
4 جولائی 2019 کو ممبئی-گوا ہائی وے کی چوپہری کاری کے کام کا جائزہ لینے کے لیے اُس وقت کے کَنکولی کے ایم ایل اے نیتیش رانے نے ہائی وے انجینئر پرکاش شیڈیکر کو گڈ ندی پل پر بلایا تھا۔ اس موقع پر کام کے معیار پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے انجینئر پر کیچڑ ڈالا گیا اور انہیں باندھ کر کیچڑ میں چلایا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد پرکاش شیڈیکر کی شکایت پر نیتیش رانے سمیت 30 افراد کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند کی دفعات 353 (سرکاری کام میں رکاوٹ)، 342، 147، 504، 506 اور عوامی املاک نقصان روک تھام ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
طویل عرصے تک چلنے والے اس مقدمے میں سرکاری وکیل کے طور پر ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر روپیش دیسائی نے پیروی کی۔ عدالت نے آج اہم فیصلہ سناتے ہوئے بڑے الزامات سے رانے کو بری کیا، تاہم امن عامہ میں خلل ڈالنے کے معاملے میں انہیں سزا سنائی گئی۔




