اورنگ آباد: گاڑی پر حملے کے بعد سابق ایم پی سید امتیازجلیل کا آیا بیان ؛ دیا دو ٹوک جواب؛ پڑھیں رپورٹ

اورنگ آباد: (کاوشِ جمیل نیوز) :عین انتخابی مہم کے دوران اورنگ آباد سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سینئر رہنما اور سابق رکنِ پارلیمان امتیاز جلیل کی گاڑی پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ شہر میں میونسپل کارپوریشن انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ ناراض کارکنوں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ بتایا جا رہا ہے کہ پرانے کارکنوں کو نظر انداز کیے جانے اور نئے چہروں کو ترجیح دیے جانے پر یہ حملہ کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد اورنگ آباد میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ حملے کے بعد امتیاز جلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا پہلا ردِعمل دیا ہے۔
معلومات کے مطابق بائجی پورہ علاقے میں امتیاز جلیل کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ اس سے قبل انہیں سیاہ جھنڈے بھی دکھائے گئے تھے۔ اس کے بعد اچانک ان کی گاڑی پر حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا گیا، جس سے کچھ دیر تک علاقے میں تناؤ بنا رہا۔
امتیاز جلیل نے کہا:
“سیاست میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، مجھے ان کے بارے میں کچھ کہنا نہیں۔ جمہوریت نے مجھے کہیں بھی جانے اور پدیاترا کرنے کا حق دیا ہے اور میں وہی کر رہا ہوں۔ اگر کسی کو اعتراض ہے کہ ہم یہاں نہ آئیں تو یہ ان کی سوچ ہے، مگر ہمارا امیدوار ہے اس لیے ہم یہاں مہم چلا رہے ہیں۔ 16 تاریخ کو جب نتیجہ آئے گا تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ کالے جھنڈوں کا مطلب کیا ہے اور سبز جھنڈے کا مطلب کیا ہے۔”
ادھر ایک ناراض کارکن نے کہا کہ شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے وارڈ میں مقامی اور دستیاب کارپوریٹر ہونا چاہیے، مگر پارٹی نے 10 کلومیٹر دور رہنے والے شخص کو امیدوار بنایا ہے، جس سے عوام میں غصہ پایا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس وارڈ میں سخت مخالفت ہو رہی ہے اور تقریباً 500 نوجوانوں نے سیاہ جھنڈے دکھا کر احتجاج کیا۔
یہ واقعہ میونسپل انتخابات سے عین قبل AIMIM میں اندرونی ناراضگی اور اختلافات کو کھل کر سامنے لے آیا ہے، جس سے پارٹی کو انتخابی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



