مہاراشٹر

نہ جانے کون دعاؤں میں یاد رکھتا ہے؛ میں ڈوبتا ہوں سمندراچھال دیتا ہے…….ادریس نائیکواڑی کا ایوان میں شعر کے ذریعے عوام کی محبت کا اظہار، میرج حلقے میں خوشی کی لہر، ادبی حلقوں میں پذیرائی

ممبئی (نامہ نگار) :مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے رکن ادریس نائک واڑی نے اسمبلی اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں ایک خوبصورت اردو شعر پڑھ کر ایوان کی توجہ حاصل کر لی۔ انہوں نے عوام کی محبت اور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی وہ کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا کرتے ہیں تو عوام کی دعائیں اور محبتیں انہیں نئی طاقت عطا کرتی ہیں۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے یہ شعر پڑھا:
نہ جانے کون دعاؤں میں یاد رکھتا ہے
میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے
ادریس نائک واڑی نے کہا کہ یہ دراصل عوام کی بے لوث محبت اور دعاؤں کا اثر ہے کہ ہر مشکل گھڑی میں انہیں حوصلہ اور طاقت ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی یہی دعائیں اور اعتماد انہیں خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہمارے ملک کی پارلیمانی اور جمہوری روایت میں یہ ایک خوبصورت پہلو رہا ہے کہ عوامی نمائندے اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے اشعار اور ادبی حوالوں کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ ماضی میں بھی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے ایوانوں میں پیش کیے گئے اشعار نہایت بامعنی اور حکومت کو آئینہ دکھانے والے ہوا کرتے تھے۔
اسمبلی اجلاس میں ادریس نائک واڑی کی جانب سے پیش کیے گئے اس شعر نے ایوان میں موجود اراکین کو داد دینے پر مجبور کر دیا اور کچھ دیر کے لیے ایوان کا ماحول ادبی رنگ میں رنگ گیا۔
ادریس نائک واڑی کے اس ادبی اندازِ بیان کو میرج کے عوام نے بھی خوب سراہا ہے۔ حلقۂ انتخاب کے لوگوں نے اسے اپنے نمائندے کی عوام سے وابستگی اور محبت کا خوبصورت اظہار قرار دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے۔
وہیں اردو ادب سے وابستہ حلقوں نے بھی ادریس نائک واڑی کو اردو زبان و ادب سے محبت کے اظہار پر دلی مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے ادبی حوالوں سے ایوان کی گفتگو میں وقار اور معنویت پیدا ہوتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!