عالمی خبریں

ایران کی پہلی بڑی کامیابی؟ کیا امریکہ کی طاقت کم پڑ گئی؟ .. ٹرمپ کے فیصلے سے دنیا میں ہلچل؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان خطرناک جنگ جاری ہے۔ ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل پر مسلسل شدید میزائل حملے کیے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اس جنگ میں اب تک امریکہ کا بے تحاشا سرمایہ خرچ ہو چکا ہے۔ چند روز قبل امریکی صدر Donald Trump نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈال دے، مگر ایران نے اس مطالبے کو صاف طور پر مسترد کر دیا۔ ایران کے صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کبھی بھی سرینڈر نہیں کرے گا۔ اس بیان کو ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
ابتدا میں ٹرمپ کو امید تھی کہ یہ جنگ چند ہی دنوں میں ختم ہو جائے گی اور ایران کی حکومت کو گرا دیا جائے گا، مگر اب سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ حکمت عملی خود ٹرمپ کے لیے مشکل بن گئی ہے۔ اسی دوران ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے کہ امریکہ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے جنوبی کوریا میں تعینات THAAD Missile Defense System کو مرحلہ وار وہاں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ یہ جدید دفاعی نظام اب مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ ایران کے میزائل حملوں سے بچاؤ کیا جا سکے۔
امریکی فوجی ذرائع کے مطابق صرف THAAD ہی نہیں بلکہ کئی دیگر فوجی سازوسامان بھی جنوبی کوریا سے ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد جنوبی کوریا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ برطانوی اخبار The Guardian کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے اس اچانک فیصلے سے جنوبی کوریا کی حکومت کو واشنگٹن کے ارادوں پر شبہ ہونے لگا ہے۔ وہاں کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ جب شمالی کوریا کا خطرہ بدستور موجود ہے تو امریکہ پر اس قدر انحصار کیوں کیا گیا۔
دوسری طرف ایران کے میزائل حملے اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!