مہاراشٹر

مہاراشٹرمیں ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات: ہزاروں نامزدگیاں داخل، 24 جنوری تک فارم واپس لینے کی مہلت

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مہاراشٹر میں 12 ضلع پریشدوں کی 731 نشستوں اور 125 پنچایت سمیتیوں کی 1462 نشستوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات کے لیے 5 فروری کو ووٹنگ ہوگی جبکہ 7 فروری کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ اب تک ضلع پریشد کی 731 نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 7695 نامزدگی فارم داخل کیے جا چکے ہیں، جبکہ پنچایت سمیتی کی 1462 نشستوں کے لیے 13023 نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں۔
الیکشن شیڈول کے مطابق نامزدگی فارم واپس لینے کی آخری تاریخ 24 جنوری مقرر کی گئی ہے۔ اس کے بعد حتمی امیدواروں کی فہرست جاری کی جائے گی اور انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔
رائے گڑھ ضلع میں 59 اراکین پر مشتمل ضلع پریشد کے لیے 391 نامزدگیاں داخل ہوئی ہیں، جبکہ 118 اراکین والی پنچایت سمیتی کے لیے 697 نامزدگی فارم جمع ہوئے ہیں۔ رتناگیری ضلع میں 56 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 226 اور 112 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 444 نامزدگیاں داخل کی گئی ہیں۔
سندھودرگ ضلع میں 50 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 272 اور 100 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 441 نامزدگیاں جمع ہوئیں۔ پونے ضلع میں 73 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 853 جبکہ 146 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 1482 نامزدگی فارم داخل ہوئے ہیں۔
ساتارا ضلع میں 65 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 632 اور 130 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 1059 نامزدگیاں داخل ہوئیں۔ سانگلی ضلع میں 61 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 746 جبکہ 122 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 1289 نامزدگیاں موصول ہوئیں۔
سولاپور ضلع میں 68 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 756 اور 136 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 1371 نامزدگیاں داخل کی گئیں۔ کولہاپور ضلع میں 68 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 907 جبکہ 136 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 1529 نامزدگیاں جمع ہوئیں۔ اورنگ آباد میں 63 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 762 اور 126 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 1456 نامزدگیاں داخل ہوئیں۔
پربھنی ضلع میں ضلع پریشد کی 54 نشستوں کے لیے 586 جبکہ 108 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 944 نامزدگیاں جمع ہوئیں۔
عثمان آباد ضلع میں 55 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 967 اور 110 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 1360 نامزدگیاں داخل ہوئیں۔ لاتور ضلع میں 59 نشستوں والی ضلع پریشد کے لیے 597 جبکہ 118 نشستوں والی پنچایت سمیتی کے لیے 951 نامزدگی فارم داخل کیے گئے ہیں۔
اورنگ آباد ضلع میں ضلع پریشد انتخابات کے دوران سیاسی خاندانوں کی شمولیت بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ یہاں رکن اسمبلی عبدالستار کے دوسرے بیٹے عبدالعامرعبدالستار، امبی ضلع پریشد سرکل سے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ اس سے قبل سلوڑ میونسپل کونسل میں عبدالستار نے اپنے بڑے بیٹے عبدالسمیر کو صدرِ بلدیہ بنایا تھا۔ اسی طرح پیٹھن کے پاچوڑ ضلع پریشد حلقے سے رکن پارلیمان سندیپان بھومرے نے اپنے بھتیجے شِیوراج بھومرے کو امیدوار بنایا ہے۔ کئی اضلاع میں سیاسی قائدین کی جانب سے رشتہ داروں کو ٹکٹ دیے جانے پر بھی چرچا ہو رہی ہے۔
لاتور ضلع میں ضلع پریشد کی 59 میں سے 51 نشستوں پر بی جے پی مقابلہ کر رہی ہے۔ بی جے پی اور این سی پی (دادا گروپ) کے درمیان اُدگیر، جلکوٹ اور چاکور تعلقوں میں اتحاد ہوا ہے۔ شیو سینا شندے گروپ صرف ایک نشست پر مقابلہ کر رہا ہے، جہاں بی جے پی نے اس کی حمایت کی ہے۔ نشستوں کی تقسیم کے مطابق بی جے پی 51 اور این سی پی دادا گروپ 7 نشستوں پر میدان میں ہے، جس کے باعث ضلع میں بی جے پی بمقابلہ کانگریس سخت مقابلے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!