کانگریس کو نظرانداز کر کے بی جے پی، ایم آئی ایم کی راہ، امراوتی سیاست میں کھلبلی؛ سیاسی دوغلے پن کا الزام، اچلپور اتحاد نے بڑھائی بحث؛ کہاں کا ہے معاملہ، پڑھیں تفصیلی رپورٹ

امراوتی: (کاوش جمیل نیوز) :امراوتی ضلع کی سب سے بڑی اچلپورمیونسپل کونسل میں چیئرمین اورمختلف موضوعاتی کمیٹیوں کے نائب چیئرمینوں کے انتخابات کے دوران بی جے پی نے ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ اس سے قبل اکولہ ضلع کی اکوٹ میونسپل کونسل میں بھی بی جے پی–ایم آئی ایم اتحاد کا تجربہ ہو چکا ہے، جس پر وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ایم آئی ایم کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔ اس کے باوجود اچلپورمیں ایم آئی ایم کو شامل گروپ کے ساتھ بی جے پی کے ہاتھ ملانے سے سیاسی حلقوں میں بحث و مباحثہ تیز ہو گیا ہے۔
41 رکنی اچلپور میونسپل کونسل میں اگرچہ صدر کا عہدہ بی جے پی کی روپالی ماتھنے کے پاس ہے، لیکن سب سے زیادہ کونسلرز کانگریس کے ہیں۔ کانگریس کے 15، بی جے پی کے 9، ایم آئی ایم کے 3، پرہار تنظیم کے 2، نیشنلسٹ کانگریس کے 2 جبکہ 10 اراکین آزاد حیثیت رکھتے ہیں۔ انہی آزاد اراکین کی پوزیشن کے باعث کونسل میں اقتدار کے توازن میں باربار تبدیلی دیکھنے کو ملتی رہی ہے۔ اس سے قبل پرہار اور چند آزاد اراکین کی مدد سے کانگریس نے نائب صدر کا عہدہ حاصل کیا تھا۔
بدھ کے روز مختلف موضوعاتی کمیٹیوں کے چیئرمین و نائب چیئرمین کے انتخابات سے قبل سیاسی بساط پر نئی چالیں چلیں۔ کونسل کے سینئر آزاد کونسلر کلومہاراج دکشت نے 10 آزاد اراکین کا الگ گروپ قائم کیا، جس میں ایم آئی ایم کے 3 اور نیشنلسٹ کانگریس کے 2 اراکین کو شامل کیا گیا۔ یوں اس گروپ کی تعداد 15 ہو گئی۔ کمیٹیوں پر اکثریت کے لیے مزید 7 اراکین کی ضرورت تھی، اس لیے پہلے کانگریس کے سامنے مفاہمت کی تجویز رکھی گئی، مگر کانگریس نے اسے صاف طور پر مسترد کر دیا۔
کانگریس کے انکار کے بعد کلو مہاراج دکشت کی قیادت والے آزاد–ایم آئی ایم–این سی پی گروپ نے براہِ راست بی جے پی سے رابطہ کیا۔ بی جے پی نے بھی فوراً اس تجویز کو قبول کر لیا، اورایم آئی ایم کی شمولیت کے ساتھ ایک غیر متوقع اتحاد وجود میں آ گیا۔ کانگریس کو نظرانداز کرتے ہوئے موضوعاتی کمیٹیوں پرغلبہ حاصل کرنے کے لیے بی جے پی کا ایم آئی ایم کو شامل گروپ سے تعاون کرنا اس وقت امراوتی ضلع کی سیاست کا مرکزی موضوع بنا ہوا ہے۔ ہندوتوا کی سیاست کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کی جانب سے ایم آئی ایم کے ساتھ کھلے طور پر ہاتھ ملانے پر سیاسی دوغلے پن کے سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔
نئے سیاسی توازن کے تحت کمیٹیوں کے انتخابات کرائے گئے۔ تعلیمی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ایم آئی ایم کا رکن منتخب ہوا، جسے بی جے پی کے تمام 9 کونسلرز کی براہِ راست حمایت حاصل رہی۔ خواتین و اطفال بہبود کمیٹی کا چیئرمین بی جے پی نے اپنے پاس رکھا، وہ بھی ایم آئی ایم کے تعاون سے، جبکہ منصوبہ بندی و تعمیرات کمیٹی کا چیئرمین آزاد اراکین کے حصے میں آیا۔
اچلپور میونسپل کونسل میں موضوعاتی کمیٹیوں کے انتخابات میں بی جے پی–ایم آئی ایم اتحاد کے معاملے پر وزیرِ محصول چندر شیکھر باونکولے نے سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل صدر روپالی ماتھنے کو فوری طور پر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم ماتھنے کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ ایم آئی ایم آزاد اراکین کے ساتھ ’اچلپور وکاس اگھاڑی‘ میں شامل ہے اور کونسل میں بی جے پی کا ایک علیحدہ گروپ موجود ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا ہے کہ بی جے پی کا ایم آئی ایم سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔



