مہاراشٹر

بی جے پی کو اکثریت، مگر میئر کے انتخاب پر کشمکش؛اورنگ آباد میں نظریں او بی سی پر؛میئر کی دوڑ میں آٹھ دعوے دار، فیصلہ فڈنویس کے ہاتھ؟

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :میونسپل کارپوریشن انتخابات کے نتائج سامنے آ چکے ہیں اور اب شہر میں سب سے زیادہ تجسس میئر کے عہدے کو لے کر پیدا ہو گیا ہے۔ انتخاب میں واضح برتری حاصل کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر میئر کے انتخاب پر زبردست رسہ کشی جاری ہے۔ اس بار بی جے پی نے پہلی مرتبہ 57 نشستیں جیت کر کارپوریشن پر مکمل اکثریت حاصل کی ہے، جس کے بعد سب کی نظریں شہر کے 23ویں میئر کی کرسی پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ میئر کا عہدہ کھلے زمرے کے لیے مختص ہے، لیکن شہر کا نیا کارپرداز کون ہوگا، اس کا فیصلہ دراصل او بی سی قائدین کے ہاتھ میں دکھائی دے رہا ہے، جو اس پورے عمل میں کنگ میکر کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔
بی جے پی میں اس وقت میئر کے عہدے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک آٹھ مضبوط دعوے دار میدان میں ہیں، جن میں دو مرتبہ منتخب ہونے والے کارپوریٹر مہیش مالوتکر، سمیر راجورکر، راجگورو وانکھڈے، شیو جی دانڈگے، رامیشور بھادَوے، وجے اوتّاڈے، سریندر کلکرنی اور رینوکا داس ویدیہ کے نام نمایاں طور پر لیے جا رہے ہیں۔ تاہم پارٹی کی سیاست میں اچانک فیصلوں اور سرپرائزز کی روایت رہی ہے، اس لیے عین وقت پر کوئی غیر متوقع نام سامنے آنے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
اس بار کی میئر انتخابی سیاست کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ انتخاب کھلے زمرے سے ہونا ہے، لیکن بی جے پی کے طاقتور او بی سی لیڈروں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ بہوجن کلیان کے وزیر اتُل ساوے، رکنِ پارلیمان ڈاکٹر بھاگوت کراڈ اور رکنِ اسمبلی سنجے کینیکر پر مشتمل کور کمیٹی اس نام پر مہر لگانے والی ہے۔ اگر ان تینوں قائدین کے درمیان شہر میں اتفاق رائے قائم نہ ہو سکا تو پھر حتمی فیصلہ براہِ راست وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کریں گے۔
پارٹی کے اندر یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آنے والے انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے او بی سی طبقے کو مضبوط نمائندگی دینے کے لیے انِل مکرِیے، پروفیسر گووند کینڈرے یا بالاجی منڈے میں سے کسی ایک کو موقع دے کر سب کو حیران کیا جا سکتا ہے۔ بی جے پی ہائی کمانڈ شہر کی ترقی کو مرکز میں رکھ کر کس امیدوار کے سر پر میئر کی تاج پوشی کرتی ہے، اس پر سیاسی حلقوں کی گہری نظریں جمی ہوئی ہیں۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس دوڑ میں تجربہ کار اور سینئر چہرے کو ترجیح دی جاتی ہے یا پھر نوجوان قیادت کو آگے لا کر نئی سمت کا آغاز کیا جاتا ہے، کیونکہ اورنگ آباد میں سیاسی سسپنس اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!