مہاراشٹر

دھرمیندر، اردو کے مخلص عاشق اوراچھے شاعر،اپنے مکالمے اُردو میں مانگتے تھے

ممبئی : 26نومبر:یواین آئی) : حال میں انتقال کرگئے ہندی فلموں کے معروف اداکار آنجہانی دھرمیندر کو جہاں اداکاری میں بے پناہ مقبولیت ملی، وہیں ان کے دل میں اردو زبان اور شاعری کے لیے غیر معمولی محبت بھی تھی۔ وہ صرف فلمی دنیا کے عظیم ہیرو نہیں تھے، بلکہ اردو کے سچے عاشق اور قدردان بھی تھے۔ ان کے نزدیک اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ محبت، تہذیب اور احساس کا نرم سا لمس تھی۔دھرمیندر نے اسکول کے زمانے میں باقاعدہ اردو پڑھی تھی، اسی لیے وہ اردو پڑھنے اور لکھنے دونوں میں ماہر تھے۔ ہندی رسم الخط ان کے لیے بعض اوقات دشوار ثابت ہوتا، اس لیے ان کی فلموں کے مکالمے اکثر اردو رسم الخط میں لکھ کر دیئے جاتے تھے۔ معروف صحافی جاوید جمال الدین کے مطابق، ان کے بڑے بھائی اور معروف مکالمہ نگارمرحوم واجد شیخ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دھرمیندر اپنی روزمرہ گفتگو میں بھی اردو الفاظ اور شاعرانہ انداز استعمال کرتے تھے، اور محفلوں میں اکثر اردو اشعار پڑھ کر سناتے تھے۔واجد شیخ ایک عرصے تک دھرمیندر کے لیے اردو میں مکالمے لکھا کرتے تھے۔ دھرمیندر کا کہنا تھا کہ وہ دل کی بات صرف اردو میں ہی پوری طرح ادا کر سکتے ہیں۔ مختلف مواقع پر انہوں نے اردو کے لیے اپنی عقیدت کا برملا اظہار کیا اور خود کو اردو زبان کا ’’احسان مند‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق، اردو ایک دل آویز زبان ہے جو جذبات کو نرمی اور مؤثر انداز میں بیان کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔wajid shaikh
واجد شیخ نے ایک واقعہ یاد کیا کہ شوٹنگ کے دوران انہوں نے دھرمیندر کے تمام مکالمے اردو رسم الخط میں دو صفحات پر لکھ کر انہیں پیش کیے۔ دھرمیندر ہمیشہ اصرار کرتے کہ ان کے مکالمے اردو میں ہی دیئے جائیں۔ اپنے انٹرویوز میں وہ اکثر بتاتے کہ انہیں اردو سے محبت اپنے بچپن کے ایک استاد کی وجہ سے ہوئی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ دھرمیندر ہی نہیں، بلکہ سنیل دت بھی اردو میں مکالمے ادا کرتے تھے۔ جاوید جمال الدین کے بقول، سنجے دت کی گرفتاری کے بعد آرتھر روڈ جیل میں ملاقات کے دوران سنیل دت نے کہا تھا کہ ہماری ابتدائی تعلیم اردو، فارسی اور عربی میں ہوئی ہے، اسی لیے دیوناگری رسم الخط سے ہم کم واقف ہیں۔دھرمیندر کو اردو کے مشہور شعرا کے اشعار، غزلیں اور نظمیں زبانی یاد تھیں۔ وہ دلیپ کمار کے بڑے مداح تھے اور اکثر ان کے ذکر میں ان کے پسندیدہ اشعار پڑھا کرتے تھے۔انوشا سری نیواس ایّر، جو نارد پی آر اینڈ امیج اسٹریٹجیز سے وابستہ اور دھرمیندر کی میڈیا ترجمان رہیں، کے مطابق، ’’دھرم جی کو بچپن ہی سے اردو سے غیر معمولی لگاؤ تھا۔ وہ اردو میں پڑھتے، لکھتے اور شاعری بھی کرتے تھے۔ اکثر اسکرپٹ وہ اردو میں ہی منگواتے، اور جب کوئی اردو بولنے والا شخص مل جاتا تو گفتگو کرتے وقت خاص مسرت محسوس کرتے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دھرمیندر اکثر اردو اخبارات مانگ کر پڑھا کرتے تھے۔پنجابی فلموں کے پروڈیوسر امر دیپ سنگھ گل بھی ان کے اردو ذوق کے گواہ ہیں۔ ان کے مطابق، فلم ’’جورا‘‘ کے دوران جب وہ مکالمے سمجھا رہے تھے تو دھرمیندر انہیں براہ راست اردو رسم الخط میں نوٹ کر رہے تھے۔دھرمیندر کا ادبی ذوق محض گفتگو یا اسکرپٹ تک محدود نہیں تھا۔ وہ خود بھی شاعری کرتے تھے، اور ان کے کئی اشعار کی ویڈیوز آج بھی یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔دھرمیندر کا اردو سے یہ لگاؤ ان کی فنکارانہ زندگی پر گہرا اثر رکھتا تھا۔ ان کے مکالموں میں نرمی، فصاحت اور ایک شعری لَے محسوس ہوتی تھی، جو انہیں اپنے ہم عصروں سے نمایاں بناتی تھی۔ ان کی شخصیت میں جہاں ایک ’’ہی مین‘‘ جھلکتا ہے، وہیں ایک ’’شاعرِ دل‘‘ بھی پوشیدہ ہے، جس نے اردو کو اپنی روح کی زبان بنایا۔دھرمیندر کی آخری فلم ’’اکیس‘‘ اگلے ماہ ریلیز ہونے والی ہے، جو 1971 کی جنگ میں شہادت پانے والے بہادر سپاہی کیتھار پال کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس فلم میں مرکزی کردار اگستیا نندا ادا کر رہے ہیں۔
یواین آئی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!