مہاراشٹر

اورنگ آباد میں شندے گروپ ناراض، مہایوتی کی اتحاد پر سوالیہ نشان؛ راجندر جنجال روتے ہوئے شیو سینا دفتر سے نکلے باہر؛ کیا ہے معاملہ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن انتخابات سے قبل مہایوتی میں اختلافات کے آثار واضح نظر آنے لگے ہیں۔ بی جے پی کو دی گئی نشستیں شندے گروپ کی شیو سینا کو ملنی چاہئیں، اسی مطالبے کو لے کر شیو سینا کے ضلع سربراہ راجیندر جنجال کارکنوں کے ہمراہ براہِ راست پالک منتری سنجئے شرساٹھ کی رہائش گاہ پہنچے۔
اس سے قبل راجندر جنجال شیو سینا کے دفتر سے روتے ہوئے باہر نکلے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ نشستوں کی تقسیم پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جنجال نے کہا کہ شیو اجی نگر وارڈ نے سنجے شیرساٹھ صاحب کو سب سے زیادہ ووٹ دیے ہیں، اس کے باوجود اسی وارڈ میں شیو سینا کو صرف ایک ہی نشست دینے کی تجویز دی جا رہی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وارڈ نمبر 21 میں ہر انتخاب میں سنجے شیرساٹھ اور بھمرے صاحب کو بھاری اکثریت حاصل ہوتی رہی ہے۔ ایسے مضبوط ووٹ بینک کے باوجود اس وارڈ کو چھوڑ دینا پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ وارڈ نمبر 22 میں اگرچہ دو نشستیں ہمیں اور دو نشستیں دوسری جماعت کو دی گئی ہیں، مگر یہاں بھی شیو سینا کے ووٹر بڑی تعداد میں موجود ہیں، جو خود سوال کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے ووٹ دیا تو کیا ان کی حمایت غلط تھی؟
راجندر جنجال نے مطالبہ کیا کہ وارڈ نمبر 21 میں کم از کم ایک نشست اور وارڈ نمبر 27 میں کم از کم دو سے تین نشستیں شیو سینا کو دی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح ساتارا دیولائی میں چاروں وارڈ لیے گئے، اسی طرح اورنگ آباد میں بھی شیو سینا کے ساتھ انصاف کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وہ کل تک نشستوں کی تقسیم کے عمل میں شامل تھے، مگر اچانک انہیں اس عمل سے باہر کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید یہ نشستیں بی جے پی کو دینے کے فیصلے کی وجہ سے انہیں الگ کیا گیا۔ آخر میں انہوں نے پالک منتری سے اپیل کی کہ بوتھ سطح پر ہوئے ووٹنگ کے اعداد و شمار دیکھ کر اس تجویز کو مسترد کیا جائے۔ یہ پورا معاملہ اورنگ آباد کی سیاست میں آئندہ دنوں مزید ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!