مہاراشٹر

مہاراشٹراردو ساہتیہ اکادمی کے جشن ہندوستان تاریخی کل ہند مشاعرہ کا شاندارانعقاد؛ سیدحسین اختر نے اردو قیادت میں تاریخ رقم کی

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے منعقد کیا جانے والا “جشنِ ہندوستان آل انڈیا مشاعرہ” اس سال اپنی شان و شوکت، عوامی جوش و خروش اور ادبی معیار کے اعتبار سے ایک تاریخی اور یادگار مشاعرہ ثابت ہوا۔ممبئی کے تاریخی گیٹ وے آف انڈیا کے وسیع و خوبصورت صحن میں منعقد ہونے والی اس روح پرور ادبی محفل میں سامعین کا ایسا جمِ غفیر امڈ آیا کہ پورا ماحول اردو شاعری کی بازگشت سے گونج اٹھا۔مشاعرے کی نظامت شہنشاہِ نظامت ندیم فرخ نے اپنے مخصوص پر وقار اور دلکش انداز میں انجام دی، جبکہ صدارت عالمی شہرت یافتہ شاعر جوہر کانپوری نے فرمائی۔محفل کا آغاز مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کے کارگزار صدر سید حسین اختر، جنید سید اور شعیب ہاشمی کے ہاتھوں روایتی شمع روشن کر کے کیا گیا۔صدرِ مشاعرہ جوہر کانپوری نے جمہوریت، آزادیٔ وطن اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے تناظر میں اپنی ولولہ انگیز نظم پیش کر محفل کو فکری وقار بخشا، جسے سامعین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ غزل کے باضابطہ سفر کا آغاز اورنگ آباد کے نوجوان اور خوش آہنگ شاعر سید فاروق احمد نے کیا، جنہوں نے نعتیہ اشعار اور مترنم غزلوں سے محفل میں روحانیت اور گرمی پیدا کر دی۔اس کے بعد غلام ثاقب نے جمہوریت اور امن کے موضوعات پر فکرانگیز شاعری پیش کی، جبکہ دھولیہ کے مزاحیہ شاعر ابراہیم ساگر نے حاضرین کو زبردست قہقہوں سے نوازا۔اورنگ آباد کے معروف شاعر احمد اورنگ آبادی نے اپنی مقبول غزل "نہ تیرا بھارت نہ میرا بھارت”۔۔۔سنا کر محفل میں فکری ہلچل پیدا کر دی۔پونے کے وشال باگھ نے سادہ مگر دلنشیں شاعری سے متاثر کیا، جبکہ طالب شولہ پوری نے مراٹھی اور اردو کے حسین امتزاج سے سامعین کے دل جیت لیے۔ممبئی کے شاعر واصف یار خان نے سماجی ہم آہنگی پر مبنی اشعار سے زبردست داد سمیٹی۔ قمر سرور، تنویر غازی، حامد بھساولی، عرفان جعفری، منظور ندیم اور دیگر شعرا نے بھی اپنی اعلیٰ تخلیقات سے مشاعرے کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔نظامت کے بعد ندیم فرخ نے بطور شاعر بھی اپنا شہرۂ آفاق کلام پیش کیا، جبکہ صدرِ مشاعرہ جوہر کانپوری نے اپنے منفرد لہجے اور فکری گہرائی سے سامعین کو مسحور کر دیا۔
جشن ہندوستان کے موقع پر اس عظیم الشان قومی مشاعرے کا آغاز چیف کارگزار آفیسر سید حسین اختر، سید شعیب ہاشمی، پرشانت اندھارے، سید جنید صاحب، سارنگ کمار پاٹل کے ہاتھوں شمع روشن کی گئی۔ ابتدائی پروگرام کی نظامت اردو دوست فرید احمد خان نے بحسن و خوبی انجام دی۔
اس عظیم الشان مشاعرے کے انعقاد میں مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کے کارگزار صدر سید حسین اختر کی انتھک محنت، منظم منصوبہ بندی اور اردو دوستی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں اکیڈمی نے یہ ثابت کر دیا کہ سرکاری سرپرستی میں بھی اعلیٰ معیار کے ادبی پروگرام منعقد کیے جا سکتے ہیں۔تقریب میں اقلیتی امور اور سماجی شعبوں سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں ملیند شینائے، سید جنید، سارنگ کمار پٹیل، پرشانت اندھارے، سلیم سارنگ، ڈاکٹر قاضی امیرالدین، اسامہ رؤف خان بھساول ، شیخ ابرار اورنگ آباد ، ڈاکٹر محمد اصغر، خورشید صدیقی، شارق نقشبندی ایڈیٹر ایشیا ایکسپریس، رشید خان،قمر ناز، حاجی شکیل انصاری، ڈاکٹر ہاشمی سید شعیب اور دیگر معززین شامل تھے۔یہ مشاعرہ نہ صرف اردو شاعری کا جشن تھا بلکہ قومی یکجہتی، جمہوری قدروں اور گنگا جمنی تہذیب کا عملی مظہر بھی ثابت ہوا۔گیٹ وے آف انڈیا کی فضا دیر تک شعرو سخن کی خوشبو سے مہکتی رہی — اور سامعین اس یادگار ادبی رات کو مدتوں یاد رکھیں گے۔ مشاعرے کے آخر میں سید حسین اختر نے تمام کا شکریہ ادا کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!