ٹرمپ کا 15 نکاتی امن منصوبہ، ایران کی 7 شرائط ؛ جنگ رکے گی یا بھڑکے گی؟ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں جنگ کے سائے کے درمیان امن کی کوششیں بھی تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سابق امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے ایک 15 نکاتی "امن منصوبہ” پیش کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جسے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
امریکی اخبار The New York Times کے مطابق، اس منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنائے اور جوہری ہتھیار بنانے کی تمام کوششیں روک دے۔ اس کے علاوہ ایران کو نطنز، اصفہان اور فردو جیسے جوہری مراکز بند کرنے اور اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی ایران کی جانب سے حمایت یافتہ گروہوں کو مالی اور عسکری مدد روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
امریکہ نے اس کے بدلے ایران کو کچھ مراعات دینے کی پیشکش بھی کی ہے، جن میں تہران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنا اور بوشہر میں شہری جوہری توانائی کے منصوبوں میں مدد فراہم کرنا شامل ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے کو کھلا رکھنے کا معاملہ اس امن منصوبے کا مرکزی نکتہ بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جنگ بندی کے لیے اپنی 7 شرائط پیش کی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں، مستقبل میں ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت دی جائے، لبنان میں Hezbollah پر اسرائیلی حملے روکے جائیں، ایران پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، جنگی نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور ایران کے میزائل پروگرام پر کسی قسم کی پابندی نہ لگائی جائے۔ اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی اجازت بھی مانگی ہے۔
اس پورے عمل میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پیغام بھی جاری کیا تھا، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے شیئر کیا۔
تاہم ایک جانب جہاں امن مذاکرات کی امید پیدا ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف امریکہ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں مزید 3000 فوجیوں کی تعیناتی کی تیاری بھی جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کے ایلیٹ 82 ایئر بورن ڈویژن کے دستوں کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ بدھ کی صبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ جیت چکا ہے اور ایران کی فضائیہ، بحریہ اور بری فوج کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
اب پوری دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا یہ امن مذاکرات کامیاب ہوں گے یا دونوں ممالک کی سخت شرائط کے باعث یہ کوشش ناکام ہو جائے گی۔ ساتھ ہی پاکستان کا کردار اس نازک صورتحال میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوگا، یہ بھی آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔



