مہاراشٹر

بالاپور: مسلمانوں کا مستقبل کیسے روشن ہو سکتا ہے؟؛ محمد خیثمہ ابن مولانا محمد اسماعیل اشاعتی

بالاپور: (بذریعہ ذاکر احمد) : بالاپور کے علمی و ادبی مرکز اشاعتُ العلوم، کاغذی پورہ میں منعقدہ چوتھے شاندار عمومی اجلاس میں صرف 13 سالہ نوجوان طالب علم محمد خیثمہ ابن مولانا محمد اسماعیل اشاعتی بالاپور متعلم مكتب اشاعت العلوم کاغذی پوره بالاپور نے نہایت شاندار، جاندار اور منفرد انداز میں خطاب کرتے ہوئے حاضرین کو خوب متاثر کیا۔ ان کا موضوع “بھارت کی مرکزی دھارے کی آواز: مسلمانوں کا مستقبل کیسے روشن ہو سکتا ہے؟” تھا، جس پر انہوں نے فکر انگیز اور مدلل گفتگو پیش کی۔
اپنے خطاب میں محمد خیثمہ ابن مولانا محمد اسماعیل اشاعتی نے کہا کہ مسلمانوں کا روشن مستقبل تعلیم، اتحاد اور مثبت فکر میں مضمر ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے، جدید علوم سے آراستہ ہونے اور ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلمان علمی میدان میں مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف اپنی بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی مرکزی دھارے میں شامل ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ معاشرتی ہم آہنگی، بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں تاکہ ایک مضبوط اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
اجلاس میں موجود علماء، معززین اور طلبہ نے صرف 13 سال کی عمر میں اتنی پختہ اور مدلل گفتگو پر محمد خیثمہ ابن مولانا محمد اسماعیل کے پراثر خطاب کو خوب سراہا۔ مقرر کی مدلل گفتگو اور منفرد اندازِ بیان نے سامعین کو کافی متاثر کیا اور نوجوان نسل کے لیے ایک مثبت پیغام دیا۔
اس موقع پر اشاعتُ العلوم، بالاپور ضلع اکولا کے ذمہ داران اور علمی شخصیات بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ پروگرام کے اختتام پر مقرر کے علمی ذوق اور بہترین اندازِ بیان کی بھرپور ستائش کی گئی اور ایسے علمی پروگراموں کے انعقاد کو معاشرے کے لیے مفید قرار دیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!