مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ؛ ملک میں چار نئی لیبر کوڈ نافذ، مزدوروں کے لیے خوشخبری!

دہلی: (کاوش جمیل نیوز) :مرکزی حکومت نے آج ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے ملک میں نئی شَرم سنہیتائیں (New Labour Codes) نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک بھر کے کروڑوں مزدوروں کو بڑا فائدہ پہنچنے والا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے نئی لیبر کوڈ نافذ کرنے کی کارروائی جاری تھی، جس کے بعد آج (21 نومبر) سرکار نے باضابطہ طور پر ان کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔
مرکزی وزیرِ محنت منسکھ مانڈویہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اس فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ نئی سنہیتاؤں کے تحت ملک کے تقریباً 40 کروڑ مزدوروں کو سماجی تحفظ کا مضبوط تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی تمام کامگاروں کے لیے وقت پر اور کم از کم اجرت کی گارنٹی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
حکومت نے آج سے جن لیبر کوڈز کو نافذ کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
ویج کوڈ (2019)
Industrial Relations Code (2020)
Social Security Code (2020)
Occupational Safety, Health & Working Conditions (OSHWC) Code (2020)
یہ اطلاع ٹائمز آف انڈیا کی خبر پر مبنی ہے۔
نئی لیبر کوڈ کے اہم نکات
آج سے ملک بھر میں نئی کامگار سنہیتائیں نافذ
تمام مزدوروں کے لیے وقتِ مقررہ پر کم از کم اجرت کی گارنٹی
نوجوانوں کو تقرری (Appointment) لیٹر کی لازمی فراہمی
خواتین کے لیے مساوی اجرت اور احترام کی ضمانت
40 کروڑ مزدوروں کے لیے سماجی تحفظ کا مضبوط نظام
ملازمین کے لیے ایک سال بعد ہی گریجویٹی کا حق
40 سال سے زیادہ عمر کے مزدوروں کے لیے ہر سال مفت طبی معائنہ
اوور ٹائم پر دوگنی اجرت
خطرناک شعبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے 100 فیصد صحت و سلامتی کا تحفظ
بین الاقوامی معیار کے مطابق مزدوروں کے لیے سماجی انصاف کی ضمانت
مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ نے اس فیصلے پر کہا کہ یہ اصلاحات صرف تبدیلی نہیں بلکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کا مزدوروں کی فلاح کے لیے ایک تاریخی قدم ہیں۔ ان کے مطابق یہ اصلاحات آتم نربھر بھارت کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہیں جو وِکستھ بھارت 2047 کے ہدف کو رفتار بخشیں گی۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی کہا: “میرے کامگار بھائیوں اور بہنوں کے لیے آج کا دن تاریخی ہے۔ آزادی کے بعد لیبر کے مفاد میں یہ سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ ان نئی لیبر کوڈز سے مزدوروں کو زیادہ اختیارات ملیں گے، صنعتوں میں آسانی پیدا ہوگی، وقت پر اجرت، محفوظ ماحول اور سماجی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ خواتین، نوجوان اور مزدور طبقہ اس کے خاص طور پر مستفید ہوں گے۔ اس سے ملک میں پیداواری صلاحیت بڑھے گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بھارت ترقی یافتہ قوم بننے کی سمت تیزی سے آگے بڑھے گا۔”



