تعلیم کے ڈائریکٹرعہدوں پرآئی اے ایس کی انٹری! تجربہ کار تعلیمی افسران کا کیریئر خطرے میں؟ ریاستی حکومت کا فیصلہ زیرِ بحث ؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

اسپیشل رپورٹ کاوش جمیل
محکمۂ تعلیم کی مختلف اداروں میں ڈائریکٹر کے عہدوں پر بھارتی انتظامی سروس (آئی اے ایس) افسران کی تقرری کا فیصلہ اس وقت زبردست بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے محکمہ تعلیم میں بھرتیاں اور ترقیات روک کر اب یہ تاثر قائم کیا جا رہا ہے کہ ڈائریکٹر کے عہدوں کے لیے اہل افسران موجود ہی نہیں۔ اسی پس منظر میں اہم عہدوں پر آئی اے ایس افسران کو بٹھایا گیا ہے۔ اس فیصلے نے اُن افسران کے مستقبل پر سوال کھڑا کر دیا ہے جو استاد، گروپ ایجوکیشن آفیسر اور مختلف انتظامی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے بلند عہدوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران کا سفر اب محض جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدے تک محدود رہ جائے گا اور ریاست کی سماجی، ثقافتی اور تعلیمی ساخت کو سمجھنے والے تجربہ کار افسران کو محکمہ سے باہر کیا جائے گا۔
ریاست میں اسکولی تعلیم آٹھ بڑے ڈائریکٹریٹ پر مشتمل رہی ہے جن میں ابتدائی و ثانوی تعلیم، بال بھارتی، امتحان بورڈ، اقلیتی و بالغ تعلیم، امتحان کونسل اور MSCERT جیسے ادارے شامل ہیں۔ بال چتروانی کو غیر مؤثر قرار دے کر بند کر دیا گیا اور اس عہدے کو تعلیم کمشنر کے منصب میں ضم کیا گیا۔ مجموعی تال میل کے لیے قائم کیے گئے کمشنر کے عہدے پر بھی آئی اے ایس افسر کی تعیناتی لازمی قرار دی گئی۔ بعد ازاں MSCERT میں بھی آئی اے ایس کی تقرری عمل میں آئی اور اب امتحان بورڈ کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی آئی اے ایس افسر کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات تقریباً واضح ہو گئی ہے کہ مستقبل میں تمام ڈائریکٹر سطح کے عہدے آئی اے ایس افسران کے حوالے کرنے کی تیاری مکمل ہے۔
اس وقت ریاست میں صرف تین افسر ایسے ہیں جو محکماتی خدمات کے ذریعے ڈائریکٹر کی سطح تک پہنچے ہیں۔ کئی برسوں سے B اور C کیڈر میں بھرتیاں اور ترقیات نہ ہونے کی وجہ سے حکومت اس کمی کو بہانہ بنا رہی ہے اور کیفیت یہ بنا دی گئی ہے کہ ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے قابل افسر دستیاب نہیں۔ کچھ عرصہ قبل جوائنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کی سطح پر ترقیات دی گئی تھیں مگر ڈائریکٹر سطح پر نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے یہ عہدے آئی اے ایس افسران کے حوالے کرنے کو مناسب قرار دیا۔ "معیار میں اضافہ” کا جواز پیش کرکے آئی اے ایس کی تقرری کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو ’مَیٹ‘ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔
اگرچہ آئی اے ایس افسر اعلیٰ ترین انتظامی تربیت یافتہ ہوتے ہیں، مگر شعبۂ تعلیم کی نوعیت صرف انتظامی نہیں ہے۔ ریاست کے دور دراز علاقوں کی سماجی، جغرافیائی اور ثقافتی حقیقت سے واقفیت، نصاب سازی کی باریکیاں، تدریسی طریقوں کی تفہیم اور بچوں کی نفسیات کا علم— یہ تمام پہلو تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد ہیں۔ محکمہ تعلیم کے وہ افسر جو سالہا سال میدان میں رہ کر مختلف اضلاع میں تبادلوں کے دوران زمینی سطح پر تعلیمی نظام کو سمجھتے آئے ہیں، انہی تجربات نے ریاست کی تعلیم کو سمت دی ہے۔ غلطیاں اور خامیاں اپنی جگہ موجود رہیں، مگر تجربہ کار افسران نے اس پیچیدہ نظام کو سنبھالے رکھا۔ اب صورتحال یہ بنتی دکھائی دے رہی ہے کہ تعلیمی فہم کے مقابلے میں صرف انتظامی فہم کو ترجیح دی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا کاغذی علم یا ریاست سے باہر کا تجربہ رکھنے والے افسران واقعی یہاں کے تعلیمی نظام کو بہتر سمت دے پائیں گے۔
ریاست میں متعدد مرتبہ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جب آئی اے ایس افسران نے تعلیم کمشنر یا متعلقہ عہدوں پر تقرری قبول کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ تعلیم کو اکثر "سائیڈ پوسٹنگ” سمجھا جاتا ہے۔ ایسے تجربات کے باوجود حکومت نے اب تمام ڈائریکٹر عہدے آئی اے ایس افسران کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس سے پہلے بھی چند محکموں— جیسے عوامی تعمیرات اور آبپاشی— میں انجینئرز کو ملنے والے ترقیاتی عہدے آئی اے ایس کے حوالے کیے گئے تھے جس پر اعتراضات اور قانونی چارہ جوئی ہوئی تھی۔ بعد ازاں ایک سمجھوتہ کیا گیا جس کے تحت محکمہ جاتی افسران کو ترقی دی گئی مگر اعلیٰ اختیار آئی اے ایس افسران کے پاس رہا۔
سال 2023 سے مرکز نے ریاست کو زیادہ آئی اے ایس افسران الاٹ کیے ہیں، جس کے بعد کئی میونسپل کارپوریشنز میں بھی کمشنر کی حیثیت سے آئی اے ایس افسران کی تعیناتیاں بڑھ گئی ہیں۔ اب محکمہ تعلیم بھی اسی پیٹرن پر گامزن دکھائی دے رہا ہے، جس سے ریاست کے تعلیمی مستقبل پر بحث مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔



