مہاراشٹر

مہاراشٹراسٹیٹ اردوساہتیہ اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر سید حسین اختر کی سراج اورنگ آبادی اور بشر نواز کی قبورپرحاضری

اورنگ آباد: مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے نو منتخب چیئرمین ڈاکٹر سید حسین اختر نے اپنے اورنگ آباد کے خصوصی دورے کے دوران اردو شاعری کے دو درخشاں ستاروں سراج اورنگ آبادی اور بشر نواز —کی قبور پر حاضری دے کر انہیں والہانہ خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وہ پنچ کنواں قبرستان پہنچے جہاں انہوں نے دونوں بزرگ شعراء کی قبور پر پھولوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی مغفرت و بلندیِ درجات کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سید حسین اختر نے کہا کہ اورنگ آباد بلا شبہ اردو کا گہورا ہے۔ اس شہر کو دنیا بھر میں جو شناخت ملی ہے وہ سراج اورنگ آبادی، ولی اور دیگر کلاسیکی شعرا کی مرہونِ منت ہے۔ سراج اردو کے اولین اور بنیاد گزار شعرا میں شمار ہوتے ہیں، اور یہ ہماری سعادت ہے کہ یہ سولہویں صدی کا عظیم شاعر ہمارے اسی شہر کی مٹی سے اٹھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ: سراج اورنگ آبادی کے بعد بشر نواز نے اپنے فکری سرمائے اور تخلیقی جہتوں کے ذریعے نہ صرف مراٹھواڑہ بلکہ پوری دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ بشر نواز کی شاعری نے اردو ادب کو نئی سمت، نئی جہت اور نیا وقار عطا کیا۔ سید حسین اختر نے اس بات پر بھی مسرت کا اظہار کیا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کا چیئرمین ان دونوں ممتاز شاعروں کی قبور پر حاضری کے لیے آیا ہو۔ انہوں نے کہا: یہ میرا اعزاز ہے کہ میں ان دو عظیم شعرا کے آستانوں تک حاضری دینے میں کامیاب ہوا۔ اس لمحے کو میں اپنی زندگی کا خوشگوار ترین ادبی تجربہ سمجھتا ہوں۔ اردو زبان کے فروغ کے حوالے سے انہوں نے اپنے عزمِ نو کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں دل کی گہرائیوں سے مہاراشٹر کے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس اور نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اردو ادب کی خدمت کا یہ عظیم منصب عطا کیا۔ میں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ میں اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری، دیانتداری اور پوری قوتِ ارادی کے ساتھ نبھاؤں گا اور اردو کے فروغ و ترویج میں کوئی کمی نہیں آنے دوں گا۔ اس موقع پر شہر کی متعدد علمی، ادبی اور سماجی شخصیات بھی موجود تھیں جن میں ڈاکٹر سہیل زکی الدین، چیف ایڈیٹر اوصاف جہاں سید فاروق احمد، چیف ایڈیٹر آج کی آواز عمران باحشوان، ڈاکٹر اشفاق اقبال، ڈاکٹر ناصر، ایڈوکیٹ حسیب اختر، علی الدین سعد، صفی الدین اشاس اور اجو لیڈر سمیت دیگر معززین شامل تھے بات چیت کے دوران حاضرین نے سید حسین اختر کے اس اقدام کو اردو ورثے سے محبت کا عملی ثبوت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ان کی سربراہی میں مہاراشٹر کا ادبی منظرنامہ ایک نئی تابناکی کے ساتھ فروغ پائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!