مہاراشٹر میں نئی سنچ مانیتا تنازع،18 ہزار اسکولیں بند ہونگی،وزیر تعلیم فوراً میٹنگ طلب کریں ،اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ

ممبئی: (نمائندہ خصوصی) :14نومبر ہائی کورٹ نےمہاراشٹر میں 15 مارچ 2024 حکومتی فیصلہ مطابق اساتذہ کی سنچ مانیتا کرنے کا فیصلہ درست، نیز 20 نومبر 2025 ڈائریکٹر کا 2024-25 سال کی بچوں کی تعداد پر، سرپلس اساتذہ کا جبری بدلی و ایڈجسٹمنٹ کارروائی سے ریاست بھر میں 18 ہزار اسکولیں متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ،جس کے خلاف ریاست بھر میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 نے فوراً 23 نومبر کو وزیرِ تعلیم داداجی بھوسے کو تفصیلی عرضداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 5 دسمبر تک کی ایڈجسٹمنٹ و جبری اساتذہ کی بدلی کارروائی کو فی الفور روک دیا جائے۔ ساجد نثار احمد نے بتایا کہ اس آڈدر عمل آوری سےپالیسی تقریباً 18 ہزار اساتذہ کی پوسٹیں کم کردی گئی ہیں، جبکہ کئی اسکول..خصوصاً دیہی، قبائلی، پسماندہ بستیوں اور شہری کچی آبادیوں—کو ’’صفر اساتذہ‘‘ کی منظوری دے دی گئی ہے، جو آر ٹی ای قانون کی دفعات 3، 8، 9 اور 19 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ساجد نثار نے یہ بھی واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے 14 نومبر 2025 کے فیصلے کے فوراً بعد تعلیم ڈائریکٹوریٹ نے 20 نومبر کو اچانک حکم نامہ جاری کیا، جس میں 5 دسمبر تک ڈسٹرکٹ لیول اور 19 تا 22 دسمبر تک ڈویژن لیول پر ایڈجسٹمنٹ مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ساجد نثار احمد ، الطاف احمد ، انصاری محمد یونس ، سلیم قریشی ،محمد فیض نے وزیر تعلیم سے اس اہم مسئلے پر جلد اور جلد تمام اساتذہ تنظیمیوں کی میٹنگ منعقد کرنے کی گذارش کی ہے۔دیکھنا یہ ہے محکمہ تعلیمات عمل کرتا ہے یا نہیں ۔



