مہاراشٹر

سرپنچ عورت، حکومت شوہر کی؟ مرکزی حکومت کا تاریخی قدم؛ گرام پنچایتوں میں شوہروں کی بادشاہت ہوگی ختم ؛ "سرپنچ پتی” نظام پر پابندی کی تیاری

پونے: (کاوش جمیل نیوز) :ملک کی کئی گرام پنچایتوں میں خواتین سرپنچ منتخب تو ہو جاتی ہیں، مگر عملی طور پر اختیارات ان کے پاس نہیں ہوتے۔ اکثر مقامات پر سرپنچ کی جگہ ان کے شوہر ہی تمام فیصلے لیتے ہیں اور خواتین صرف دستخط تک محدود رہتی ہیں۔ اب اس رجحان پر قدغن لگانے کے لیے مرکزی حکومت نے سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج کے ایڈیشنل سکریٹری سشیل کمار لوہانی نے واضح کیا ہے کہ ’سرپنچ پتی‘ جیسے غیر آئینی اور غیر جمہوری نظام کے خاتمے کے لیے ملک گیر سطح پر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین عوامی نمائندوں کو آزادانہ فیصلے لینے کا حق اور سماجی تعاون ملنا بے حد ضروری ہے۔ گرام پنچایتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خواتین کی عملی شرکت کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کریں۔
مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور ریاستی محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کی جانب سے ’ماڈل وومن فرینڈلی گرام پنچایت انیشی ایٹو‘ کے تحت منعقدہ قومی ورکشاپ کا افتتاح سشیل کمار لوہانی نے کیا۔ اس موقع پر پرنسپل سیکریٹری ایکناتھ ڈاوَلے، یشدا کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نیرنجن کمار سدھانشو، ڈائریکٹر وپل اُججول، اقوامِ متحدہ پاپولیشن فنڈ کی ڈاکٹر دیپا پرساد، اسٹیٹ رورل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے نائب ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ملّیناتھ کلشٹّی، ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر گجانن پاٹل، ڈائریکٹر گریش بھالیراؤ اور ایڈیشنل ڈائریکٹر سچن گھاڈگے بھی موجود تھے۔
لوہانی نے کہا کہ خواتین دوست گرام پنچایتوں کی تشکیل کے لیے مالی وسائل کے ساتھ ساتھ سماجی بیداری اور ذہنی تبدیلی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اس کے لیے گاؤں کی سطح پر منصوبہ بند کوششیں ضروری ہیں تاکہ خواتین کی زندگی زیادہ محفوظ، صحت مند اور خودمختار بن سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین اور لڑکیوں کو بلا امتیاز معیاری خدمات ملنی چاہئیں، خواہ وہ تعلیم ہو، ہنرمندی، بینکنگ شعور، روزگار کے مواقع یا حکومتی نظام میں فعال شرکت۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرام پنچایتوں کو خواتین کے لیے صاف اور محفوظ بیت الخلاء، نل کنکشن کے ذریعے گھریلو پانی کی فراہمی، عوامی مقامات پر سکیورٹی انتظامات، خوداعتمادی بڑھانے کے پروگرام اور مالی امداد جیسے امور کو ترجیح دینی چاہیے۔ مختلف ریاستوں کے بہترین تجربات سے سیکھ کر انہیں اپنے گاؤں میں مؤثر طریقے سے نافذ کرنا چاہیے۔
ورکشاپ کے دوران ڈائریکٹر وپل اُججول نے ’وومن فرینڈلی گرام پنچایت‘ منصوبے کی تفصیلی پیشکش کی۔ انہوں نے بتایا کہ گورننس، صحت و غذائیت، تعلیم و ہنرمندی، معاشی مواقع تک رسائی، تحفظ و سلامتی جیسے موضوعات پر مشتمل 35 اشاریوں (انڈیکیٹرز) پر مبنی ایک خصوصی ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!