مہاراشٹر

ایم آئی ایم سحر شیخ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی، امتیاز جلیل کا مخالفین کو کھلا چیلنج؛ کہا سحرشیخ‌کےمعافی کا سوال ہی پیدا نہیں‌ہوتا

ممبرا: (کاوش جمیل نیوز) :میونسپل کارپوریشن انتخابات میں سحرشیخ کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی جانب سے امیدوار بنایا گیا تھا، اوروہ ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر کامیاب بھی ہوئیں۔ کامیابی کے بعد سحر شیخ نے ’’کیسے ہرایا؟‘‘ کہتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے رہنما جتیندر آوہاڈ کو نشانہ بنایا تھا۔ ان کا یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا تھا۔
اس کے بعد سحر شیخ نے ایک بیان بھی دیا تھا جس میں انہوں نے ’’ممبرا کو ہرا بھرا کرنا ہے‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔ اس بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں خاصا تنازعہ پیدا ہوا۔ اس معاملے میں پولیس نے سحر شیخ کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔
اسی دوران آج ایم آئی ایم کے ریاستی صدراور سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے سحر شیخ اور ممبرا کے نو منتخب کارپوریٹروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امتیاز جلیل نے بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں مہاراشٹر میں سبز رنگ پھیلایا جائے گا۔
امتیاز جلیل نے واضح طور پر کہا کہ پارٹی پوری طرح سحر شیخ کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر پولیس کے آنے جانے کا حوالہ دے کر سحر شیخ پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو آج سے اس معاملے کو یہیں ختم سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ سحر شیخ کو ایک چھوٹی بچی سمجھ کر ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اب میں کہتا ہوں کہ میرے خلاف جو کارروائی کرنی ہے وہ کریں۔‘‘ اس بیان کے ذریعے انہوں نے بغیر نام لیے بی جے پی رہنما کریٹ سومیا کو سخت انتباہ دیا۔
ادھر ایک خط بھی وائرل ہوا ہے، جو پولیس کی جانب سے کریٹ سومیا کو بھیجے گئے خط کی کاپی بتایا جا رہا ہے۔ اس خط میں پولیس نے کہا ہے کہ سحر شیخ نے نوٹس ملنے کے بعد پولیس تھانے میں حاضر ہو کر بیان دیا ہے، اور اس بیان میں انہوں نے اپنے متنازعہ الفاظ پر معافی مانگی ہے۔ اسی سوال پر امتیاز جلیل سے ردعمل پوچھا گیا۔
اس پر جواب دیتے ہوئے امتیاز جلیل نے کہا کہ انہوں نے خود اس معاملے میں سحر شیخ سے بات کی تھی اور واضح طور پر کہا تھا کہ کسی بھی صورت میں معافی نہیں مانگنی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سحر شیخ کے بیان کا مطلب ممبرا کو ہرا بھرا بنانے سے تھا، جس طرح ناسک میں بی جے پی رہنما گریش مہاجن درختوں کی کٹائی کے حق میں تھے اور انہیں ناسک میں سبز رنگ پسند نہیں تھا۔ اس وقت پورا ناسک ایک ہو گیا تھا اور کہا تھا کہ ہمیں سبز رنگ بچانا ہے، ہمیں درخت بچانے ہیں۔
امتیاز جلیل نے سوال اٹھایا کہ پھر سحر شیخ کے بیان کو اسی زاویے سے کیوں نہیں دیکھا جا رہا؟ انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو لفظ ‘ہرا’ اس طرح لگا جیسے یہ کوئی دہشت گردی سے جڑا ہوا لفظ ہو۔‘‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!