نجی غیر امدادی اور اقلیتی اسکولوں کے اساتذہ کو مردم شماری کے کام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا; بامبے ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، ریاستی حکومت کو کارروائی سے روکا

اکولہ : (ذاکر احمد) :مردم شماری 2027 کے سلسلے میں نجی غیر امدادی اور اقلیتی اسکولوں کے اساتذہ و غیر تدریسی عملے کی جبری تقرری کے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے ایک نہایت اہم اور راحت بخش فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی حکومت کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ نجی غیر امدادی تعلیمی اداروں کے ملازمین کو مردم شماری کے کام کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس گوتم انکھڑ اور جسٹس سندیش پائل پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ حکومت ان اساتذہ یا ملازمین کے خلاف کسی بھی قسم کی محکمانہ یا فوجداری کارروائی، بشمول ایف آئی آر، درج نہ کرے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مردم شماری قانون اور اس سے متعلق قواعد میں ایسا کوئی التزام موجود نہیں ہے جس کے تحت نجی غیر امدادی اسکولوں کے عملے کی لازمی خدمات حاصل کی جا سکیں۔
یہ راحت Unaided Schools Forum سمیت ریاست بھر کے 500 سے زائد نجی اسکولوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کی جانب سے دائر درخواستوں پر دی گئی۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے اساتذہ کو غیر تدریسی کاموں میں مصروف کیے جانے سے طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے اور اسکولوں کا تعلیمی نظم درہم برہم ہو رہا ہے۔
عدالت نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کا اصل کام تعلیم دینا ہے، نہ کہ غیر تعلیمی سرکاری ذمہ داریاں ادا کرنا۔ عدالت نے حکومت کو مشورہ دیا کہ مردم شماری جیسے اہم کام سرکاری مشینری، مقامی اداروں یا معاون تنظیموں کے ذریعے مکمل کیے جائیں تاکہ تعلیمی نظام متاثر نہ ہو۔
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت اور حتمی فیصلہ 31 جولائی 2026 کو مقرر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ریاست بھر کے نجی اور اقلیتی تعلیمی اداروں میں اطمینان کی فضا دیکھی جا رہی ہے اور تعلیمی حلقوں نے عدالت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔




