واشم ضلع میں شرمناک واقعہ: منریگا مزدوری مانگنے پر زرعی سرکاری افسر نے کی کسان کی جوتے سے پٹائی ؛ زرعی محکمہ کی شبیہ داغدار؛ کہاں کا ہے معاملہ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

واشم: (کاوش جمیل نیوز) :کسان معیشت کی بنیاد ہے، مگر بدقسمتی سے اب اسی کسان پرسرکاری افسر کے ہاتھوں تشدد کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ مہاراشٹر کے واشم ضلع کے منگرول پیر تعلقہ کے گوگری علاقہ میں زرعی افسر کی جانب سے کسان کو جوتے اور مٹی کے ڈھیلے سے مارنے کا واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے، جس سے نہ صرف علاقے بلکہ پوری ریاست میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، گوگری علاقہ میں منریگا اسکیم کے تحت پھلوں کے باغات لگائے گئے تھے، تاہم گزشتہ چار ماہ سے ان باغات کی مزدوری ادا نہیں کی گئی تھی۔ اس تاخیر کے خلاف کسانوں نے ضلع زرعی افسر کے پاس شکایت درج کرائی تھی۔ اسی شکایت کے بعد تعلقہ زرعی افسر سچن کامبلے اس علاقے کے معائنے کے لیے پہنچے تھے۔
اسی دوران کسان رِشیکیش پوار پورے معاملے کی ویڈیو ریکارڈنگ کر رہے تھا، جس پر زرعی افسر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ’’ویڈیو کیوں بنا رہے ہو‘‘ کہہ کر کسان پر جوتے اور مٹی کے ڈھیلے سے حملہ کر دیا۔ الزام ہے کہ اس دوران کسان کو گالیاں بھی دی گئیں اور اس کا موبائل فون چھین لیا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کسانوں میں شدید ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد قائم مقام ضلع زرعی افسر انیسہ مہابلے نے کہا کہ گوگری میں پیش آئے اس واقعے کی وائرل ویڈیو موصول ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے خود اور محکمہ کے سینئر افسر کے ساتھ متاثرہ کسان سے ملاقات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعے کی کسی بھی سطح پر حمایت نہیں کی جا سکتی۔ کسان کو فوری راحت دی گئی ہے اور جن منریگا مَسٹر رولز کی ادائیگی باقی ہے، انہیں فوراً جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر سول سروس (کنڈکٹ) رولز کے تحت زرعی افسر کے خلاف جانچ بٹھا کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب، تعلقہ زرعی افسر سچن کامبلے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ منریگا کے تحت پھل باغ اسکیم کی جانچ اور رہنمائی کے لیے گئے تھے۔ اس دوران دو نوجوان مسلسل ویڈیو شوٹنگ کر رہے تھا۔ شوٹنگ بند کرنے کو کہنے پر انہوں نے ساتھ موجود خاتون ملازم سے نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔ مخالفت کے باوجود وہ باز نہ آئے اور جاتے وقت غیر آئینی اور سماجی طور پر نامناسب الفاظ استعمال کیے، جس کے باعث ان کا ضبط ٹوٹ گیا اور یہ واقعہ پیش آیا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جس ضلع کا نگراں خود ریاستی وزیرِ زراعت ہیں، وہاں کسان پر تشدد کا واقعہ انتہائی سنگین قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف زرعی محکمہ بلکہ ریاستی انتظامیہ کے رویّے پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اب تمام کسانوں اورعوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ انتظامیہ زرعی افسر کے خلاف کیا سخت قدم اٹھاتی ہے۔



