ایران کے سینئر دفاعی عہدیدارعلی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کا بڑا اعلان: اب فیصلہ کن جنگ، امریکہ اوراسرائیل کو کھلی دھمکی

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان خوفناک جنگ جاری ہے اور آج اس جنگ کا 19واں دن ہے۔ ان 19 دنوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 28 فروری کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد اس شدید جنگ کا آغاز ہوا۔
اطلاعات کے مطابق جنگ کے دوسرے ہی دن امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد اسرائیل نے ایران کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ایران نے نیا سپریم لیڈر مقرر کیا تو اسے بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ بعد ازاں ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا، تاہم وہ بھی اس جنگ میں شدید زخمی ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔
اسی دوران منگل کو اسرائیل نے ایران پر ایک اور فضائی حملہ کیا، جس میں ایران کے سینئر دفاعی عہدیدار علی لاریجانی ہلاک ہوگئے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد جنگ کی کمان لاریجانی کے ہاتھ میں تھی، اس لیے ان کی ہلاکت ایران کے لیے بڑا دھچکا مانی جا رہی ہے۔
بدھ کے روز اسرائیل نے ایک اور حملہ کیا، جس میں ایران کے ایک اور اہم رہنما کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق اس حملے میں ایران کے وزیر اسماعیل خطیب بھی ہلاک ہوگئے۔
اپنے اہم رہنماؤں کی مسلسل ہلاکت کے بعد ایران اب کافی زیادہ جارحانہ ہو گیا ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ ایسے ہتھیار استعمال کرے گا جو اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں کیے گئے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ہائپرسونک میزائل سمیت جدید ترین ہتھیار موجود ہیں اور ہم اپنے دفاع کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔



