امریکہ تھک گیا؟ جنگی اخراجات بڑھنے پرسیز فائر کی راہ تلاش؛ جنگ کے بیچ بڑا موڑ: امریکہ پیچھے ہٹنے کو تیار، لیکن ایران کا صاف انکار

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید جنگ جاری ہے۔ ایران نے اپنے میزائل حملوں سے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس جنگ میں اب تک امریکہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس پر بے تحاشہ مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
ایک طرف عالمی سطح پر امریکہ کی جانب سے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اس کی فوجی طاقت ختم ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے رہنما جنگ بندی کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی وقت سیز فائر کے لیے بات چیت کر سکتے ہیں۔
تاہم اب ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے ہلچل مچا دی ہے۔ "ڈراپ سائٹ نیوز” کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ خود جنگ بندی کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی اور ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ سیز فائر کے معاملے پر بات چیت کے خواہاں ہیں۔
لیکن اطلاعات کے مطابق ایران اس وقت جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہے اور اس نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔ رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اسٹیو وٹکوف نے گزشتہ ہفتے ایران کے اعلیٰ عہدیداروں اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پیغام بھیجا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں، مگر ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ان کے سپریم لیڈر کے حکم کی وجہ سے اس پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ادھر ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح طور پر کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں سیز فائر نہیں ہوگا۔ اس صورتحال میں اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو بھی جاتی ہے تو اسرائیل کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ سوال اب شدت سے اٹھایا جا رہا ہے۔



