مہاراشٹر

امراوتی جنسی استحصال معاملہ: متاثرین میں مسلم نوجوان لڑکیاں بھی شامل؛ اقلیتی کمیشن نے لیا نوٹس؛ مرکزی ملزم ایان احمد کے گھر پربلڈوزر کارروائی

امراوتی: (کاوش جمیل نیوز) :پورے ریاست میں زیرِ بحث آنے والے امراوتی ضلع کے پرتواڑہ علاقے میں پیش آئے جنسی استحصال کے معاملے میں اب کئی چونکا دینے والی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس معاملے کے 19 سالہ مرکزی ملزم ایان احمد کو پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد اس کے ایک ساتھی کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے آٹھ کم عمر لڑکیوں اور خواتین کے 18 ویڈیوز اور 39 تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کیں۔ ان میں کچھ مسلم لڑکیاں بھی شامل ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ مہاراشٹر ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرتواڑہ میں سامنے آنے والا یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے، اور متاثرین میں کچھ مسلم لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ پولیس کو چاہیے کہ وہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اس معاملے کی تیز رفتار تفتیش کے لیے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر اقلیتی کمیشن نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے اپنا ایک وفد کل پرتواڑہ جا کر اس معاملے کی جانچ کرے گا۔ متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثنا مسلم تنظیموں نے بھی اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکتیں کرنے والے ایان احمد تنویر احمد اور اس کے ساتھیوں کو تلاش کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ قاضی مسعود الدین کی قیادت میں ایک وفد نے پولیس حکام کو میمورنڈم پیش کیا اور یہ مطالبہ کیا۔
اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد مسلم تنظیموں کے عہدیداران نے پولیس افسران سے ملاقات کی اور کہا کہ اس کیس کے کئی پہلو سامنے آ رہے ہیں، اور ایان کا یہ عمل معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ لڑکیوں کے فحش ویڈیوز پھیلانے والوں کو بھی تلاش کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے، اور مذہب یا ذات پات کو نظرانداز کرتے ہوئے مجرموں کو درندہ سمجھ کر سزا دی جائے۔
مزید یہ کہ اس کیس کی مکمل جانچ کے لیے ایس آئی ٹی قائم کی جائے۔ اس سلسلے میں سب ڈویژنل پولیس آفیسر ڈاکٹر شبھم کمار کو بھی میمورنڈم دیا گیا۔ ادھر آج ملزم ایاز احمد کے گھر پر بلڈوزر کارروائی بھی کی گئی، جس کے دوران بھاری پولیس بندوبست تعینات تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!